اندور میں آلودہ پانی سے ہی ہوئی لوگوں کی موت، تجربہ گاہ میں ہوئی جانچ سے تصدیق!
افسران نے بتایا کہ بھاگیرتھ پورہ میں ایک پولیس چوکی کے پاس پینے کے پانی والی پائپ لائن میں اس جگہ لیکیج ملا جہاں اوپر ایک بیت الخلاء بنا ہوا ہے۔ اس لیکیج سے ہی پانی آلودہ ہوا۔

ملک کے سب سے صاف و شفاف شہر اندور میں الٹی و دست سے متاثر ہونے کے بعد کم از کم 4 مریضوں کی موت ہو گئی ہے اور 1400 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ مقامی لوگوں نے کم از کم 13 افراد کی اموات کا دعویٰ کیا ہے۔ اس درمیان تجربہ گاہ میں پانی کے نمونوں کی ہوئی جانچ کا نتیجہ سامنے آ گیا ہے۔ جو رپورٹ سامنے آئی ہے، اس میں تصدیق ہوئی ہے کہ لوگوں میں الٹی اور دست کی شکایت آلودہ پانی کے سبب ہی پیدا ہوئی۔ یعنی جو اموات ہوئی ہیں، اس کی وجہ آلودہ پانی ہی تھی۔ چیف میڈیکل و ہیلتھ افسر ڈاکٹر مادھو پرساد ہاسانی نے بتایا کہ شہر کی ایک میڈیکل یونیورسٹی کی تجربہ گاہ میں ہوئی جانچ کی رپورٹ یہ تصدیق کرتی ہے کہ بھاگیرتھ پورہ علاقہ میں پائپ لائن کے لیکیج نے پینے کے پانی کو آلودہ کیا تھا۔ حالانکہ انھوں نے جانچ رپورٹ کی تفصیلی جانکاری مہیا نہیں کی ہے۔
ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے نے اس معاملے میں بتایا کہ ’’ہم بھاگیرتھ پورہ میں پینے کے پانی کی فراہمی والی پوری پائپ لائن کی باریکی سے جانچ کر رہے ہیں، تاکہ پتہ چل سکے کہ کسی دیگر مقام پر لیکیج تو نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ جانچ کے بعد بھاگیرتھ پورہ کے گھروں میں جمعرات کو اس پائپ لائن سے صاف پانی کی فراہمی کرائی گئی، حالانکہ احتیاط کے طور پر لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس پانی کو ابالنے کے بعد ہی استعمال کریں۔
سنجے دوبے کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اس پانی کے بھی نمونے لے کر جانچ کے لیے بھیجے ہیں۔ اب بھاگیرتھ پورہ کے آلودہ پانی والے معاملہ سے سبق لیتے ہوئے ریاست بھر کے لیے ایس او پی جاری کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔‘‘ انھوں نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی ہدایت پر بھاگیرتھ پہنچ کر حالات کا جائزہ بھی لیا۔
محکمہ صحت کے ایک افسر نے بتایا کہ جمعرات کو بھاگیرتھ پورہ میں 1714 گھروں کا سروے کیے جانے کے دوران 8571 لوگوں کی جانچ کی گئی۔ افسر کے مطابق ان میں سے 338 لوگوں میں الٹی اور دست کی ہلکی علامت ملنے پر انھیں ان کے گھروں میں ابتدائی علاج فراہم کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ الٹی و دست کے قہر سے گزرے 8 دنوں میں مقامی اسپتالوں میں 272 مریضوں کو داخل کیا گیا ہے، جن میں سے 71 لوگوں کو چھٹی دی جا چکی ہے۔ افسر نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال اسپتالوں میں 201 مریض داخل ہیں، جن میں سے 32 لوگ آئی سی یو میں ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔