کانپور انکاؤنٹر میں نیا انکشاف، وکاس دوبے کے خلاف ایف آئی آر کرنے والا لاپتہ

کانپور کے سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ دنیش کمار نے بتایا کہ راہل کی جان کو خطرہ ہے اس لیے ڈپٹی ایس پی سکرم پرکاش کی قیادت میں ایک ٹیم لاپتہ راہل تیواری کی تلاش میں لگ گئی ہے۔

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

قومی آوازبیورو

ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کی موت کے بعد کانپور انکاؤنٹر کے تعلق سے ایک نئی بات سامنے آئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وکاس دوبے کے خلاف پولس میں شکایت کرنے والا شخص لاپتہ ہے اور اس کی تلاش میں یو پی پولس زور و شور سے جٹ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راہل تیواری نامی شخص نے وکاس دوبے کے خلاف پولس میں ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اسی کی بنیاد پر 3-2 جولائی کی درمیانی شب پولس ٹیم وکاس دوبے کو پکڑنے کانپور واقع بکرو گاؤں پہنچی تھی۔

ایک ہندی نیوز پورٹل پر شائع رپورٹ کے مطابق راہل تیواری کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے لاپتہ ہے اور گھر کے کسی رکن سے اس کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ پولس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ راہل تیواری شکایت کنندہ ہونے کے علاوہ وکاس دوبے سے جڑے معاملوں میں اہم گواہ بھی ہے۔ کانپور کے سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ دنیش کمار نے بتایا کہ راہل کی جان کو خطرہ ہے اس لیے ڈپٹی ایس پی سکرم پرکاش کی قیادت میں ایک ٹیم لاپتہ راہل تیواری کی تلاش میں لگ گئی ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں راہل تیواری کی ماں کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ راہل نے آخری بار ان سے 2 جولائی کی رات بات کی تھی۔ اس نے فون پر ڈری ہوئی آواز میں بات کی۔ اس کے بعد اپنی بیوی اور بھابھی کے ساتھ غائب ہو گیا۔ راہل کی ماں کا کہنا ہے کہ اس رات کے بعد پھر اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

اب تک جو باتیں سامنے آئی ہیں اس کے مطابق بکرو سے ملحق جڈے پور نواڑا گاؤں میں رہنے والے راہل تیواری، مونیکا نواڑا گاؤں میں اپنی سسرالی زمین فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ان کی بیوی کی بہنوں نے زمین فروخت کرنے کی مخالفت کی۔ ان میں سے ایک (جو بکرو میں ہے) فریق نے معاملے میں وکاس دوبے کی مداخلت چاہی۔ پولس جانچ کے مطابق راہل تیواری کو یکم جولائی کو دوبے کے ذریعہ برسرعام دھمکی دی گئی اور پیٹا گیا۔ اگلے دن انھوں نے چوبے پور پولس اسٹیشن میں ونے تیواری کو ایک تحریری شکایت دی تھی۔ اسی شکایت کے بعد ڈی ایس پی دیویندر مشرا کی قیادت میں پولس ٹیم نے وکاس دوبے کی گرفتاری کے لیے قدم آگے بڑھایا تھا لیکن وکاس دوبے نے پولس ٹیم پر ہی حملہ کر دیا۔ اس واقعہ میں ڈی ایس پی مشرا سمیت 8 پولس جوان شہید ہو گئے۔

next