نیٹ یو جی ری-ایگزام: ’مشکوک نیٹورکس پر لگائیں لگام‘، مرکزی حکومت نے میٹا، گوگل اور ٹیلی گرام کو دیا حکم
دھرمیندر پردھان نے بدھ کو مرکزی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی۔ اس میں نیٹ کے دوبارہ امتحان کو محفوظ اور شفاف طریقے سے منعقد کرانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

نیٹ-یو جی ری-ایگزام (دوبارہ امتحان) کے پیش نظر مرکزی حکومت نے میٹا، گوگل اور ٹیلی گرام کو افواہ پھیلانے والے اور مشکوک نیٹورکس کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ دوبارہ امتحان کے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بدھ کے روز مرکزی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی ہے۔
واضح رہے کہ نیٹ یو جی کا دوبارہ امتحان 21 جون کو ہونا ہے۔ افسران کے مطابق بڑے مسابقتی امتحانات سے قبل کئی ٹیلی گرام چینلز اور گمنام آن لائن گروپس اچانک فعال ہو جاتے ہیں۔ یہ چینلز طلبہ اور والدین کے درمیان خوف، الجھن اور تشویش پیدا کرنے کے لیے فرضی معلومات پھیلاتے ہیں۔ کئی معاملات میں لنکس طلبہ کو آٹومیٹڈ بوٹس اور فرضی گروپس تک پہنچاتے ہیں، جہاں غلط معلومات کو تیزی سے پھیلایا جاتا ہے۔ ایسے ہی معاملات کے پیش نظر، مرکزی حکومت نے نیٹ یو جی ری-ایگزام کو لے کر سیکورٹی انتظامات اور سائبر نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بدھ کے روز مرکزی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں نیٹ کے دوبارہ امتحان کو محفوظ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کرانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مرکزی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ہوئی اس میٹنگ میں وزارت تعلیم کے اعلیٰ افسران اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل بھی موجود رہے۔ اس دوران امتحان سے قبل ممکنہ خامیوں کی نشان دہی، سیکورٹی مینجمنٹ اور وقت رہتے اصلاحی اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
حکومت نے خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل رہی گمراہ کن معلومات کو شدید تشویش کا باعث بتایا۔ اسی سلسلے میں میٹا، گوگل اور ٹیلی گرام کے نمائندوں کے ساتھ الگ سے میٹنگ کر کے فرضی پیپر لیک کے دعووں، کلک بیٹ مواد اور افواہ پھیلانے والے نیٹورکس پر سخت کارروائی کی ہدایات دی گئیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق کئی مشکوک چینلز محدود تعداد میں فون نمبروں سے چلائے جا رہے ہیں، جس سے منظم نیٹورک کے سرگرم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایسے نیٹورکس کے خلاف ایک ٹارگیٹڈ مہم چلانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ امتحان سے قبل فرضی معلومات، پروپیگنڈا اور افواہ پھیلانے والے چینلز کی فوری شناخت کر کے انہیں بلاک اور بلا تاخیر ہٹایا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے وزارت تعلیم، این ٹی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تال میل بڑھانے کو کہا، تاکہ گمراہ کن معلومات پر تیزی سے کارروائی کی جا سکے اور امتحانی نظام کی ساکھ برقرار رہے۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ طلبہ کو گمراہ کرنے والی جھوٹی معلومات سے بچانا اور امتحانی عمل میں عوام کا اعتماد قائم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا کے اہم پلیٹ فارمز جیسے کہ میٹا، گوگل اور ٹیلی گرام وغیرہ کے نمائندوں کے ساتھ الگ سے ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ میں مسابقتی امتحانات سے جڑی گمراہ کن معلومات کے تیزی سے پھیلنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر ٹیلی گرام چینلز اور گمنام آن لائن گروپس کے ذریعے پھیلائی جا رہی افواہوں کو لے کر تشویش ظاہر کی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو ملک اور بیرون ملک کے 5400 سے زیادہ مراکز پر نیٹ کا امتحان منعقد کیا گیا تھا۔ لیکن راجستھان کے سیکر اور دیگر علاقوں سے پیپر لیک کے پختہ ثبوت ملنے اور ’گیس پیپرز‘ کے سوالات مرکزی امتحان سے ہو بہو مل جانے کے بعد حکومت نے امتحان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری اب سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
