اب نیپال کر رہا سینہ زوری، ’نو مینس لینڈ‘ پر ہو رہی گنّے کی کھیتی

اتر پردیش اور نیپال کے لیے گنّے کی کھیتی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ نیپالی کسانوں نے مبینہ طور پر ضلع کے گوری پھنٹا علاقہ میں گنّے کی کھیتی شروع کر دی ہے جو کہ ‘نو مینس لینڈ’ ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان کی زمین پر ایک طرف تو چین اپنی آنکھیں گڑائے ہوئے ہے، اور دوسری طرف نیپال بھی سینہ زوری کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اب تو اتر پردیش اور نیپال کے لیے گنّے کی کھیتی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ نیپالی کسانوں نے مبینہ طور پر ضلع کے گوری پھنٹا علاقہ میں 'نو مینس لینڈ' میں گنّے کی زراعت شروع کر دی ہے۔ دُدھوا ٹائیگر ریزرو کے ڈپٹی ڈائریکٹر منوج سونکر نے اس سلسلے میں بتایا کہ "نیپال کے شہریوں نے دُدھوا کے جنگلوں کے کنارے 'نو مینس لینڈ' میں کھیتی شروع کر دی ہے۔ ہم نے ایس ایس بی اور ضلع مجسٹریٹ کو اس بارے میں مطلع کیا ہے۔ ہندوستانی افسران نے بھی اپنے ہم منصب نیپالی افسران سے ان کے شہریوں کے ذریعہ کیے گئے اس تجاوزات کے بارے میں بات کی ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ لکھیم پور کھیری نیپال کے دو اضلاع کیلالی اور کنچن پور کے ساتھ ملحق ہے۔ یہاں ہندوستان کے ستون نمبر 6/752 کے آس پاس فصلیں اگائی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ سرحد پر لگے طاق نمبر والے ستونوں کی دیکھ بھال نیپال کے ذریعہ کی جاتی ہے اور جفت نمبر والے ستون کی دیکھ بھال ہندوستان کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ جون میں ان میں سے کچھ ستون لاپتہ ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں سرحدی ستونوں کے دونوں کناروں پر 9.1 میٹر چوڑے علاقے کو 'نو مینس لینڈ' کی شکل میں نشان زد کیا گیا ہے، جو کسی بھی ملک کے حلقہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔

39ویں بٹالین کے ایس ایس بی کمانڈنٹ منّا سنگھ جو کہ ضلع میں اتر پردیش-نیپال سرحد کے 63 کلو میٹر علاقے کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں، انھوں نے ضلع مجسٹریٹ شیلیندر سنگھ کو اس تجاوزات کے بارے میں لکھا تھا۔ نیپال کے افسران کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد اس مسئلہ کا حل ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے فوراً بعد ہی نیپال کے افسران کو دو بار مقامی لوگوں کے ساتھ دیکھا گیا جو سرحد کے ہندوستانی کنارے پر لاشوں کی آخری رسومات ادا کر رہے تھے۔ سونکر نے کہا کہ "موجودہ صورت حال کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایس ایس بی افسران نے اپنی چوکسی بڑھا دی ہے۔"

next