’نیٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے‘، طلبہ کے احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ وجے کا مرکزی حکومت سے اہم مطالبہ
ٹی وی کے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دہلی میں نوجوانوں کے پرامن احتجاج کی حمایت میں میدان میں اترے راہل گاندھی کو دہلی پولیس کے ذریعہ گھسیٹ کر اور ہتھکڑی لگا کر لے جانا جمہوری حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے۔‘‘

نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے سبب دہلی میں جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی نے مرکزی حکومت سے اہم مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان کو ہی مکمل طور سے ختم کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ وجے نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو دھرنے سے حراست میں لیے جانے پر بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ وجے کی پارٹی ٹی وی کے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیٹ امتحان کے نافذ ہونے کے بعد سے نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، بلکہ طلبہ شدید ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے مستقبل کے خواب ایک بڑے سوالیہ نشان میں تبدیل ہو گئے ہیں۔‘‘ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’نیٹ امتحان کی وجہ سے ہر سال طلبہ کو ہونے والا نقصان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس لیے ہم مرکزی حکومت سے نیٹ امتحان کو مستقل طور پر ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور پرینکا گاندھی سمیت سرکردہ لیڈران کو حراست میں لیے جانے پر ٹی وی کے نے کہا کہ راجدھانی میں جمہوریت کا اس طرح گلا گھونٹنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ ٹی وی کے نے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’دہلی میں نوجوانوں کے پرامن احتجاج کی حمایت میں میدان میں اترے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو دہلی پولیس کے ذریعہ گھسیٹ کر اور ہتھکڑی لگا کر لے جانا جمہوری حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے۔ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور کئی دیگر سینئر لیڈران نے وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور نیٹ پیپر لیک معاملے میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی کو لے کر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ بعد میں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی لیڈر سپریا سولے بھی اس احتجاج میں شامل ہوئیں۔ بعد میں اپوزیشن لیڈران کو جبراً اس جگہ سے ہٹایا گیا اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
