نیٹ پیپر لیک روکنے کے لیے امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی کرانے کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل

عرضی کے مطابق 2024 کے تنازعہ کے بعد اسرو کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کی کمیٹی نے اصلاحات کی سفارشات پیش کی تھیں۔ اس کے باوجود 2026 کا امتحان پرانے طرز پر ہی کرایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی داخل کر ’نیٹ یوجی‘ امتحان کو فوری طور پر کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (سی بی ٹی) موڈ میں بدلنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک اور سیکورٹی کی خامیوں نے موجودوہ پین-پیپر سسٹم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کا موجودہ طریقہ اب محفوظ نہیں رہا۔

عرضی کے مطابق 2024 کے تنازعہ کے بعد اسرو کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کی کمیٹی نے اصلاحات کی سفارشات پیش کی تھیں۔ اس کے باوجود 2026 کا امتحان پرانے طرز پر ہی کرایا گیا۔ اس میں پیپر کی چھپائی، اسے لانے لے جانے اور رکھنے میں بہت خطرہ ہوتا ہے۔ اس مکمل عمل میں کئی ایسے نکات ہیں جہاں سے پیپر لیک ہونے کا امکان بنا رہتا ہے۔


عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ مرکزی حکومت پہلے ہی 2027 سے اس امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ ڈیجیٹل سسٹم زیادہ محفوظ ہے۔ ایسے میں اس عمل کو نافذ کرنے کے لیے 2027 تک کا انتظار کرنا صحیح نہیں ہے۔ کمپیوٹر پر مبنی امتحان میں پیپر محفوظ ڈیجیٹل کوڈ کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں۔ اس میں بایومیٹرک جانچ اور اے آئی پر مبنی نگرانی جیسے محفوظ انتظام ہوتے ہیں، جس سے گڑبڑی کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔

عرضی گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ 21 جون کو ہونے والا ری-ٹیسٹ پین-پیپر کے بجائے کمپیوٹر پر کرایا جائے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو مستقبل کے امتحانات کے لیے ایک وقت کی حد طے کرنے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں این ٹی اے کو ہٹا کر ایک نئی آزاد شفاف تنظیم بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ نئی تنظیم قانونی طور پر جوابدہ ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ریٹائرڈ جج، ماہرین تعلیم، سائبر ماہرین اور سائنسداں شامل ہونے چاہیے۔ عرضی میں پیپر لیک میں شامل لوگوں اور کوچنگ سنٹروں کے خلاف فاسٹ-ٹریک تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سی بی آئی سے 2026 کے پیپر لیک معاملے میں 4 ہفتے کے اندر اسٹیٹس رپورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ 3 مئی 2026 کو ہوئے امتحان میں 22 لاکھ سے زائد طلبہ شامل ہوئے تھے۔ الزام ہے کہ امتحان سے قبل ہی واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر پیپر لیک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 12 مئی کو امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔ عرضی میں 2021 اور 2024 کے تنازعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ عرضی آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ، ڈاکٹر دھرو چوہان اور دیگر سماجی کارکنان نے وکیل ستیَم سنگھ راجپوت کے ذریعہ داخل کی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔