’نریندر مودی جی... اس طرح کے فرضی سروے سے کچھ ہونے والا نہیں‘
کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نریندر مودی سمجھ چکے ہیں کہ ان کا ووٹ چوری والا کھیل عوام کے سامنے آ گیا ہے، اس لیے اپنے قریبیوں سے فرضی سروے کرا رہے ہیں۔
’گرام‘ (جی آر اے اے ایم) این جی او کے ذریعہ ای وی ایم سے متعلق کرائے گئے ایک سروے کو کانگریس نے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر شہری ہندوستان میں انتخاب اور ای وی ایم پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ خبر سامنے آتے ہی کانگریس نے سروے کرانے والے ادارہ سے متعلق ایک ایسی حقیقت سامنے رکھ دی ہے، جس نے سروے کے نتیجہ پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس سروے سے متعلق کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن اور نریندر مودی نے ’ووٹ چوری‘ میں خود کو کلین چٹ دینے کے لیے ایک سروے کرایا۔ اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو ای وی ایم پر بھروسہ ہے اور وہ مانتے ہیں کہ ہندوستان میں غیر جانبدارانہ انتخاب ہوتے ہیں۔‘‘ پوسٹ میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’یہ سروے جس این جی او ’گرام‘ (جی آر اے اے ایم) نے کیا، وہ نریندر مودی کے قریبی آر بالاسبرامنیم کا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بالاسبرامنیم نے نریندر مودی کی چاپلوسی میں کتاب بھی لکھی ہے۔‘‘
اس پوسٹ میں کانگریس نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن اور نریندر مودی سمجھ چکے ہیں کہ ان کا ووٹ چوری کا کھیل عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ اس لیے اپنے قریبیوں سے ایسے فرضی سروے کرا کر عوام کی توجہ بھٹکانا چاہتے ہیں، لیکن ملک کی عوام ’ووٹ چوری‘ کی حقیقت جان چکی ہے۔‘‘ آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی جی... اس طرح کے فرضی سروے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے، الٹا آپ کی گھبراہٹ ہی نظر آتی ہے۔‘‘
کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے بھی اس سروے معاملہ میں میڈیا کے سامنے اپنا سخت رد عمل پیش کیا ہے۔ انھوں نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک سروے کی بنیاد پر سرخی آئی– ’بیشتر شہری انتخاب اور ای وی ایم پر بھروسہ کرتے ہیں‘۔ لیکن اس کے اندر کی خبر دبا دی گئی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سروے الیکشن کمیشن نے ’گرام‘ نامی این جی او سے کرایا۔ اس کے بانی بالاسبرامنیم پی ایم او میں کام کرتے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’یہ سروے چھاپنے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ سروے مودی کے قریبی نے کیا ہے۔ جو ایجنسی خود کمپرومائزڈ ہے، وہ کیا سروے کرائے گی۔‘‘
’اے این آئی‘ کے ساتھ سپریا شرینیت کی گفتگو پر مشتمل یہ ویڈیو کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے۔ اس میں وہ کہتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’آج ملک کے گوشے گوشے میں جائیے، وہاں ہر شخص ای وی ایم، انتخابی نظام اور ایس آئی آر پر سوال اٹھا رہا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیاں ای وی ایم اور ایس آئی آر پر مستقل سوال اٹھا رہی ہیں اور اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو تحریری شکایت بھی دے چکی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔