نریندر گری کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے ’پالی گراف ٹیسٹ‘ کی اجازت کا مطالبہ

سی بی آئی نے عدالت میں اپنی درخواست میں کہا ہے کہ تینوں ملزمین، جو 18 اکتوبر تک عدالتی حراست میں ہیں، پوچھ تاچھ کے دوران صحیح باتیں نہیں بتا رہے ہیں، انھوں نے حادثہ سے متعلق کچھ چیزوں کو چھپایا ہے۔

مہنت نریندر گری، فائل تصویر آئی اے این ایس
مہنت نریندر گری، فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے پریاگ راج کی ایک عدالت سے مہنت نریندر گری کی موت معاملے میں تین ملزمین آنند گری، آگھا پرکاش تیواری اور سندیپ تیواری کا پالی گراف ٹیسٹ کرانے کی اجازت مانگی ہے۔ سی بی آئی نے عدالت میں اپنی درخواست میں کہا کہ تینوں ملزم، جو اس وقت 18 اکتوبر تک عدالتی حراست میں ہیں، پوچھ تاچھ کے دوران صحیح باتوں کا انکشاف نہیں کر رہے ہیں، اور انھوں نے واقعہ کے تعلق سے جڑی کئی چیزوں کو چھپایا ہے۔

اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے چیف مہنت نریندر گری (72 سال) 20 ستمبر کو باگھمبری مٹھ میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے۔ ایک ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ مہنت نریندر گری کی موت پھانسی لگنے کے سبب دم گھٹنے سے ہوئی ہے۔ لیکن مہنت سے جڑے تمام لوگوں نے ان کے ذریعہ خودکشی جیسا قدم اٹھائے جانے پر شبہات ظاہر کیے تھے۔


اتر پردیش پولیس کے مطابق مہنت نریندر گری کو آخری بار 20 ستمبر کو دوپہر کے کھانے کے بعد اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔ شام کو جب ان کے شاگردوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی رد عمل نہیں ہوا۔ جب ان کے شاگردوں نے دروازہ توڑا اور کمرے میں داخل ہوئے تو انھوں نے مہنت کو چھت سے پھانسی کے پھندے سے لٹکا پاکا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔