صدر جمہوریہ کے انتخاب میں میرا ووٹ دروپدی مرمو کو، شیوپال یادو کا اعلان

شیوپال نے ایک بیان میں صدرجمہوریہ کے عہدے کے لئے این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کو اپنا ووٹ دینے کی بات کھلے طور پر کہہ دی ہے۔

شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد میں صدر جمہوریہ کے انتخاب کے دوران دراڑ اب اک دم اجاگر ہوگئی ہے۔ ایس پی صدر اکھلیش یادو کے خلاف پی ایس پی صدر شیوپال سنگھ یادو اور ایس بی ایس پی صدر اوپی راج بھر نے ہفتہ کو سیاسی ناپختگی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔

شیوپال نے ایک بیان میں صدرجمہوریہ کے عہدے کے لئے این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کو اپنا ووٹ دینے کی بات کھلے طور پر کہہ دی ہے۔ وہیں راج بھر نے ایس بی ایس پی کے اراکین اسمبلی کا ووٹ کسے دیا جائے گا اس کا فیصلہ 12جولائی کو کرنے اور 18جولائی کو صدرجمہوریہ کے الیکشن کے بعد ایس پی کے ساتھ اتحاد میں رہنے کا فیصلہ کرنے کی جانکاری دی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو مرمو کے اعزاز میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے منعقد عشائیہ میں راج بھر اور شیوپال کی شرکت کے بعد سے ہی سیاسی گلیاروں میں ایس پی اتحاد کے ٹوٹنے کی چہ میگوئیاں تیز ہوگئی تھیں۔ حالات کو واضح کرنے کے لئے شیوپال نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ 'میں نے بہت پہلے کہا تھا کہ جہاں ہمیں بلایا جائے گا۔ جو ہم سے ووٹ مانگے گا ہم اسے ووٹ دیں گے۔ اس سے پہلے بھی صدرجمہوریہ کے انتخابات ہوئے تھے۔ نہ تو ہمیں سماج وادی پارٹی نے بلایا اور نہ ہی ووٹ مانگا۔ اس وقت رام ناتھ کووند جی نے ووٹ مانگا تو ہم نے انہیں اپنا ووٹ دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'کل مجھے وزیر اعلی یوگی نے بلایا تو میں وہاں گیا۔ وہاں دروپدی مرمو جی سے ملاقات ہوگئی۔ میں وزیر اعلی جی سے ملا انہوں نے مجھ سے اچھے ڈھنگ سے بات کی۔ ہمیں سماج وادی پارٹی کی طرف سے کبھی بھی کسی میٹنگ میں نہیں بلایا گیا۔ جمعرات کو یشونت سنہا یہاں آئے تھے۔ لیکن ہمیں نہیں بلایا گیا۔ اس لئے صدرجمہوریہ کے الیکشن میں میرا ووٹ دروپدی مرمو جی کو جائے گا۔


انہوں نے ایس پی قیادت میں سیاسی ناپختگی کو اس کی وجہ بتایا۔ شیوپال نے کہا کہ 'سیاسی ناپختگی کی وجہ سے یہ سب ہوتا چلا جا رہا ہے اور پارٹی کمزور ہو رہی ہے۔ میں نے تو پی ایس پی کی رکنیت چھوڑ کر ایس پی کی رکنیت حاصل کرلی تھی اور الیکشن لڑا تھا۔ جب میں ایس پی کا ایم ایل اے ہوں تو ہم سے بھی رائے لینی چاہئے۔ اچھے لیڈر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ یہ تشویش کا باعث ہے۔

اس درمیان ایس بی ایس پی کی ریاستی اکائی کی جائزہ میٹنگ کے بعد راج بھر نے اکھلیش پر طنز کستے ہوئے کہا کہ الیکشن میں ہار کے بعد وہ ابھی بھی شدید گرمی میں سڑکوں پر اتر کر عوام کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے اتحاد کے ساتھی اے سی کمروں سے باہر نہیں آپا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'اعظم گڑھ کے ضمنی الیکشن میں ایس بی ایس پی کا کمانڈر (راج بھر) 45 ڈگری درجہ حرارت میں سڑکوں پر کام کر رہا تھا۔ جبکہ ایس پی کا کمانڈر پوری طرح سے ندارد تھا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ مارچ میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد سے ہی راج بھر اور شیوپال کے سر بدلے ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Jul 2022, 9:40 PM