اردو کو روزگار سے جوڑنا میرا سب سے بڑا ہدف ہے: وی سی اردو یونیورسٹی پروفیسر عین الحسن

پروفیسر عین الحسن نے کہا ’’ہمیں اردو زبان کو کسی مذہب سے نہیں بلکہ کلچر سے جوڑنا چاہیے، اردو گھروں کی زبان تھی لیکن آج اردو کلچر انحطاط پذیر ہے جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘‘

پروفیسر عین الحسن / تصویر سوشل میڈیا
پروفیسر عین الحسن / تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کا کہنا ہے کہ اردو زبان کو روزگار سے جوڑنا میرا سب سے بڑا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اردو زبان کو روزگار سے جوڑا گیا ہوتا تو شاید لوگ بچوں کو انگریزی نہیں پڑھاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اردو ثقافت کا انحطاط ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

حال ہی میں قومی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے والے پروفیسر عین الحسن نے ان باتوں کا اظہار یہاں یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اردو زبان کو روزگار سے جوڑنا میرا ایک اہم ترین ہدف ہے اس کے لئے ہم یونیورسٹی میں نرسنگ جیسے کورسز کو متعارف کرنا چاہتے ہیں تاکہ لڑکیاں اس میں کورسز کر کے مختلف اسپتالوں میں روزگار حاصل کر سکیں۔‘‘


ان کا کہنا تھا کہ ہم لیگل اسٹیڈیز میں بھی پوسٹ گریجویشن کا کورس متعارف کرنا چاہتے ہیں تاکہ جو کثیر تعداد میں دستاویزات اور عدالتی فیصلے ہیں ان کو پڑھایا جا سکے اور روزگار بھی حاصل کیا جا سکے۔ پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ ہمیں اردو زبان کو کسی مخصوص مذہب کے بجائے کلچر سے جوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’’ہمیں اردو زبان کو کسی مذہب سے نہیں بلکہ کلچر سے جوڑنا چاہیے، اردو گھروں کی زبان تھی لیکن آج اردو کلچر انحطاط پذیر ہے جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘‘ موصوف وائس چانسلر نے مزید کہا کہ جب ہم اردو زبان کو روزگار سے جوڑیں گے تو زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فیض حاصل کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔