مظفرنگر فسادات: ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب 20 ملزمان بری

ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج بابورام نے پیر کے روز تمام ملزمان کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

مظفرنگر فسادات کے دوران کی فائل تصویر / Getty Images
مظفرنگر فسادات کے دوران کی فائل تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

مظفرنگر: مغربی اتر پردیش کی ایک مقامی عدالت نے 2013 کے مظفرنگر فسادات کے 20 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج بابورام نے پیر کے روز تمام ملزمان کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ضلع سرکاری وکیل (ڈی جی سی) راجیو شرما نے کہا کہ معاملہ میں تمام گواہان اور شکایت کنندگان اپنے بیان سے مکر گئے ہیں۔

ایڈیشنل ضلع سرکاری وکیل (اے ڈی جی سی) نریندر شرما نے تفیصلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ کوٹبی کے رہائشی سراج الدین نے 8 ستمبر 2013 کو شاہ پور تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی کہ ہجوم نے ان کے گھروں کو جلا دیا ہے اور انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ان کا قیمتی سامان بھی لوٹ لیا گیا۔ اس معاملہ کی سماعت کے دوران ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔


ذرائع کے مطابق گزشتہ 8 سالوں میں 2013 کے مظفرنگر فسادات سے وابستہ قتل، عصمت دری، ڈاکہ زنی اور آگزنی سے وابستہ 97 معاملوں میں 1117 افراد کو ثبوتوں کی عدم موجودگی یا گواہان کے اپنے بیان سے مکر جانے کے سبب بری کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے فسادات کے سلسلہ میں 510 مقدمات درج کئے تھے اور 1480 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ تفتیش کے بعد ایس آئی ٹی نے 175 معاملوں میں فرد جرم دائر کی تھی۔ خیال رہے کہ مظفرنگر فسادات میں کم از اکم 60 افراد کی جان چلی گئی تھی جبکہ 50 ہزار سے زیادہ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Sep 2021, 12:11 PM