مہنت نریندر گری موت معاملہ: آسٹریلیا میں چھیڑخانی سمیت ملزم آنند گری کا تنازعات سے پرانا ناطہ

مہنت نریندر گری اور ان کے شاگرد آنند گری کے درمیان تنازعہ کافی زیر بحث رہا تھا، آنند گری پر سنگین الزامات تھے جس کے بعد اسے نرنجانی اکھاڑہ سے نکال دیا گیا تھا

نریندر گری، آنند گری
نریندر گری، آنند گری
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی موت کے بعد ان کے شاگرد آنند گری کا نام اچانک سرخیوں میں آ گیا۔ اس کی وجہ مہنت کا وہ سوسائڈ نوٹ ہے جسے پولیس نے موقع واردات سے برآمد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق مہنت نریندر گری نے اس سوسائڈ نوٹ میں آنند گری سمیت اپنے کئی شاگردوں کا ذکر کیا ہے۔ آنند گری کا نام ہمیشہ تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ مہنت نریندر گری اپنے شاگرد کی سرگرمیوں سے بہت ناخوش تھے۔

پولیس نے بتایا کہ اپنے 7 صفحات کے خودکشی نوٹ میں مہنت نے کہا ہے کہ وہ ذہنی طور پر پریشان تھے۔ دراصل، مہنت اور ان کے شاگرد آنند گری کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا، آنند گری پر سنگین الزامات تھے جس کے بعد اسے نرنجانی اکھاڑہ سے نکال دیا گیا۔ آنند گری سنگم میں لیٹے ہنومان مندر کا چھوٹا مہنت ہوا کرتا تھا۔ اسے مہنت نریندر گری کا عزیز شاگرد سمجھا جاتا تھا۔ آنند گری کو مندر سے متعلق بہت سے حقوق بھی حاصل تھے لیکن روایت کے خلاف کام کرنے کے سبب اسے اس سال برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنند گری نے اپنے گرو مہنت نریندر گری پر تمام طرح کے الزامات عائد کئےدونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا گی


آنند گری کا تنازعات سے پرانا ناطہ رہا ہے، یہاں تک کہ اس پر آسٹریلیا میں خواتین کے ساتھ چھیڑخانی کا بھی الزام عائد ہوا تھا۔ سال 2018 میں جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا آنند گری مہنت کا معتمد ہوا کرتا تھا اور وہ آسٹریلیا گیا ہوا تھا۔ وہاں اس پر دو خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے اور ہوٹل کے کمرے میں خواتین پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ خواتین نے اس کے خلاف شکایت بھی درج کرائی تھی۔ اس کے بعد آنند گری کو وہاں گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ اس واقعہ نے آنند گری کے کردار کو مشکوک بنا دیا تھا۔

بعد میں اسے مہنت نریندر گری کی مداخلت اور وکلاء کی مدد سے آنند گری رہا کیا گیا لیکن اس واقعہ نے مہنت نریندر گری، مندر اور باگھمبری مٹھ کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچایا۔ اسی معاملہ میں رہا ہونے کے بعد آنند نے اپنے گرو مہنت نریندر گری پر الزام لگایا کہ وہ اسے آزاد کرانے کے لئے انہوں نے کئی امیر لوگوں سے 4 کروڑ روپے وصول کئے ہیں۔


اس کے بعد اکتوبر 2020 میں آنند گری کی شراب کے گلاس کے ساتھ کی ایک تصویر تنازعہ کی وجہ بنی تھی۔ وائرل ہونے والی تصویر میں آنند گری جہاز کی بزنس کلاس میں بیٹھا ہوا نظر آ رہا تھا اور شراب سے بھرا گلاس اس کے سامنے ہولڈر پر رکھا تھا۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے مٹھ پر سوال اٹھائے اور بڑے پیمانے پر اس کی بدنامی ہوئی۔ وہیں آنند گری نے وضاحت پیش کی کہ اس گلاس میں سیب کا جوس تھا، شراب نہیں اور تصویر کو وائرل کر کے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی سال مہنت نریندر گری نے آنند گری پر چوری کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ آنند پر الزام تھا کہ وہ سنت روایت کے خلاف اپنے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور پریاگ راج میں، سنگم کے کنارے بنائے گئے ہنومان مندر میں آنے والی نذرانوں کی رقم آنند اپنے خاندان پر خرچ کرتا ہے۔ اس الزام کے بعد آنند کو اکھاڑے سے نکال دیا گیا۔ بے دخل کیے جانے کے بعد آنند گری نے اپنے گرو مہنت نریندر گری پر جوابی حملہ کیا اور ان پر کئی الزامات لگائے۔ اس وقت مہنت نریندر گری نے کہا تھا کہ آنند کے خلاف کی گئی کارروائی ایک دن کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔


اس سال مئی میں اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری اور ان کے شاگرد آنند گری کے درمیان تنازع اس وقت ختم ہوا جب آنند گری نے اپنے گرو مہنت نریندر گری کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگی۔ اس کے ساتھ آنند گری نے نرنجنی اکھاڑہ کے پنچ پرمیشور سے معافی بھی مانگی تھی۔ دونوں کے درمیان صلح کے بعد مہنت نریندر گری نے آنند پر پریاگ راج میں مٹھ اور ہنومان مندر جانے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

اس دوران مہنت اور آنند کے درمیان اکھاڑوں کی جائیداد، کروڑوں مالیت کی زمین کی خریداری جیسے کئی معاملات کے حوالے سے الزامات عائد ہوئے۔ یہاں تک کہ آنند نے بھی ان کے طرز عمل پر سوال اٹھائے۔ مہنت نریندر گری اس پورے واقعہ سے پریشان تھے اور انہوں نے اپنے سوسائڈ نوٹ میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔