ممبئی بن رہا ’مِنی جامتاڑا‘! 2 سال میں 1800 کروڑ سے زائد کی ٹھگی، محض 10 فیصد رقم برآمد
رواں سال فروری تک سائبر دھوکہ دہی میں ممبئی والوں نے 172.27 کروڑ روپے گنوا دیے ہیں، جبکہ برآمد کی گئی رقم صرف 18 کروڑ روپے ہے۔ اس دوران سائبر جرائم کے 952 معاملے درج کیے گئے۔

سائبر دھوکہ دہی نے اس وقت ممبئی سمیت پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ممبئی کو ملک کی معاشی راجدھانی بھی مانا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف سائبر جرائم کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب انہیں پکڑنے کی شرح کافی کم ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی بات ان جرائم سے منسلک وصولی کی شرح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان جرائم میں سینکڑوں کروڑ روپے گنوانے کے بعد پولیس اوسطاً صرف 10 فیصد رقم ہی برآمد کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔ 2024 میں ممبئی والوں نے سائبر دھوکہ دہی میں تقریباً 846.71 کروڑ روپے گنوا دیے، جس میں صرف 82.50 کروڑ روپے ہی برآمد کیے جا سکے ہیں۔
2025 میں ممبئی میں رہنے والے لوگوں نے سائبر دھوکہ دہی میں 1031.45 کروڑ روپے گنوا دیے، جس میں سے صرف 110.77 کروڑ روپے ہی برآمد ہوئے۔ رواں سال فروری تک سائبر دھوکہ دہی میں ممبئی کے مکینوں نے 172.27 کروڑ روپے گنوا دیے ہیں، جبکہ برآمد کی گئی رقم صرف 18 کروڑ روپے ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری ماہ تک ممبئی میں سائبر جرائم کے 952 معاملے درج کیے گئے، ان میں سے صرف 120 معاملے ہی حل کیے جا سکے ہیں اور مجموعی طور پر 107 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال ممبئی میں سائبر جرائم کے مجموعی طور پر 4825 معاملے درج کیے گئے، پولیس ان میں سے 1452 معاملوں کو حل کرنے میں کامیاب رہی اور کل 1410 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اگر 2024 کی بات کریں تو ممبئی میں سائبر جرائم کے کل 5087 معاملے درج کیے گئے، پولیس ان میں سے صرف 1253 معاملوں کو ہی سلجھانے میں کامیاب رہی اور 1294 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔