ممبئی: عید الاضحیٰ کے پیش نظر قربانی اور جانوروں کی منڈی کھلنے کے امکانات روشن

مہاراشٹر این سی پی صدر جینت پاٹل مسلمانوں کے مسائل کو لے کر جلد ہی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: عید الاضحیٰ سے قبل قربانی اور جانوروں کی ترسیل کی اجازت ملنے کا امکان اب روشن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ قربانی کوآرڈنیشن کمیٹی کے وفد کی این سی پی کے مہاراشٹر صدر اور حکومت مہاراشٹر میں کابینی درجے کے وزیر جینت پاٹل سے ملاقات کے بعد اس معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جینت پاٹل نے اس سلسلے میں مثبت کوششیں کی ہیں اور جلد ہی وہ اس مسئلہ پر وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار کے ساتھ میٹنگ کر کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کر نے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس میٹنگ سے مسلمانوں کو امسال قربانی کے دیونار مذبح میں اجازت کے ساتھ جانوروں کی منڈی بلا روک ٹوک لگانے کی اجازت ملنے کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔

مذکورہ میٹنگ کی اطلاع این سی پی لیڈر اور قربانی کوآرڈنیشن کمیٹی کے رکن سلیم سارنگ نے دی ہے۔ سلیم سارنگ نے نمائندہ کو بتایا کہ کورونا کے چلتے حالات ابھی سازگار دکھائی دے رہے ہیں، اور ایسے میں سرکار نے مسلمانوں کے اس مقدس فریضہ کیلئے اجازت دینے میں پہل کی ہے۔ جلد ہی ایک نمائندہ وفد اس سلسلے میں جینت پاٹل کی ہدایت پر وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی سے ملاقات کرے گا اور اس میں کافی مثبت نتیجہ کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کی طرح امسال مسلمانوں کو قربانی کے لیے پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔


سلیم سارنگ نے جینت پاٹل کے حوالے سے بتایا کہ نمائندہ وفد کی جینت پاٹل سے ملاقات کے بعد انہوں نے قربانی کے مسئلے کولے کر وزیراعلیٰ مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے اور اور نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سے گفتگو کی ۔ جینت پاٹل نے عیدِ قرباں سے متعلق گائیڈلائنس جاری نہ ہونے سبب مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کا ذکر کیا ۔ وزیراعلیٰ مہاراشٹر نے جینت پاٹل کی باتوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسلم نمائندہ وفد سے ملاقات کرنے کی حامی بھری ہے۔

سلیم سارنگ نے بتایا کہ قربانی کے جانوروں کی پکڑ دھکڑ اور چیک ناکوں اور شاہراہوں پر انہیں روکنے کی شکایات کو لے کر حکومت مہاراشٹر سنجیدہ ہے۔ بیف ڈیلر ایسوسی ایشن سمیت جانوروں کے بیوپاریوں کو گزشتہ سال کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن امسال ایسے حالات پیدا نہ ہوں اور بکروں کی گاڑیوں کی آمدورفت میں کوئی دشواری پیش نہ آئے، اس کے لئے حکومت مہاراشٹر مثبت کوشش کرنے کو تیار ہے۔


واضح رہے کہ مسلمانوں نے قربانی اور قربانی کے جانوروں کو لانے لے جانے سے متعلق مسائل کا حل نکالنے کے لیے پہلے سے ہی کوششیں شروع کردی ہیں اور دیونار کو قربانی کے لئے کھولنے کے مطالبہ کا مثبت اثر بھی ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جانوروں کی منڈی لگانے سے متعلق بھی جو بھی فیصلے لئے جائیں گے وہ مسلمانوں کی سہولت کی مناسبت سے ہی لیا جائے گا۔ این سی پی لیڈر سلیم سارنگ کا کہنا ہے کہ بقرعید سے قبل ڈیلٹا ویئرینٹ کا اثر کم رہا تو قربانی کے لیے مسلمانوں کو سہولت ملنا لازمی ہے۔ اگر ڈیلٹا ویرینٹ کے اثرنمایاں طور پر مرتب ہوتے ہیں اور ریاست کو دوبارہ لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو عیدالفطر کی طرح عیدالاضحیٰ میں بھی مسلمانوں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

واضح رہے کہ ممبئی کے مسلمان کا نمائندہ وفد اس سے قبل کابینی وزیر اسلم شیخ اور مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے سے ملاقات کرچکا ہے۔ اس وفد نے مہاراشٹر ین سی پی صدر اور کابینی وزیر جینت پاٹل سے بھی ملاقات کی تھی۔ سلیم سارنگ اور قربانی کوآرڈنیشن کمیٹی کے دیگر اراکین نے ممبئی ریاست کے مسلمانوں سے قربانی کے جانور کے ساتھ سیلفی اور فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے سے اجتناب برتنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی خون میں لت پت جانور کی فوٹوکو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی گریز کرنےکی اپیل کی ہے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد بھی ملے اور بقرعید کا تہوار امن و امان کے ساتھ گزر جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔