یوپی میں ایودھیا سمیت جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے سب میں ملائم-آر ایس ایس کی ملی بھگت رہی: الیاس اعظمی

الیاس اعظمی نے یوپی کے عوام سے اپیل کی ہے کہ یوپی کو مجبور حکومت کی ضرورت ہے، مضبوط حکومت کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ مجبور سرکاریں عوام سے ڈر کر کام کرتی ہیں۔

الیاس اعظمی، تصویر ٹوئٹر @iliyas_azmi
الیاس اعظمی، تصویر ٹوئٹر @iliyas_azmi
user

یو این آئی

نئی دہلی: پیپلس جسٹس پارٹی کے صدر اور سابق ممبر پارلیمنٹ الیاس اعظمی نے دعوی کیا ہے کہ ملائم۔بھاگوت ملاقات سے یہ ثا بت ہوتا ہے کہ ووٹوں کا رشتہ بہت پرانا ہے اور اترپردیش میں ایودھیا سمیت جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں سب میں ملائم۔آر ایس ایس کی ملی بھگت شامل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ 2019 میں ووٹوں کی گنتی سے صرف ایک دن پہلے ملائم فیملی کو آمدنی سے زائد جائیداد معاملے میں کلین چٹ ملی تھی۔ اس کے عوض اکھلیش یادو نے پارٹی کے سارے ترجمانوں کو برخاست کر دیا تاکہ کوئی ای وی ایم پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

الیاس اعظمی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کے ایک بڑے طبقے کو یہ تو نظر آتا ہے کہ فلاں فلاں پارٹیاں بی جے پی سے ساز باز رکھتی ہیں لیکن آر ایس ایس کے سب سے بڑے ایجنٹ کو وہ صرف بی جے پی 'ہراؤ' کے نعرے پر نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ چودھری چرن سنگھ کے تشکیل کردہ ’سماجی ایکتا‘ کو اکھلیش کے ذریعہ ہی درہم برہم کر کے بی جے پی کو اتنی بڑی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔


الیاس اعظمی نے جینت چودھری کو آگاہ کیا کہ مغربی یوپی میں سماج وادی کا کوئی ووٹ نہیں ہے اور مسلمان جب براہ راست چودھری چرن سنگھ کی بنائی ہوئی سماجی ایکتا کو پھر سے مضبوط کرنے کے لیے ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں تو تم اکھلیش سے کیوں سیٹیں مانگ رہے ہو جب کہ ووٹر براہ راست ووٹنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ایسی حالت میں فکر مند اکھلیش سے سمجھوتہ عقل سے پرے ہے۔

اعظمی نے اتر پردیش کے عوام سے اپیل کی ہے کہ آئندہ اترپردیش کو مجبور حکومت کی ضرورت ہے، مضبوط حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مضبوط سرکاریں صرف ظلم اور بدعنوانی کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ جب کہ مجبور سرکاریں عوام سے ڈر کر کام کرتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔