ایم ایس پی پر سروے: ہندوستان کے بیشتر افراد نے کسانوں کے مطالبہ کو ٹھہرایا صحیح

ممکنہ طور پر اس سروے میں این ڈی اے ووٹرس کے مقابلے اپوزیشن ووٹرس کے ایک بڑے حصے نے کسانوں کے مطالبہ کی حمایت کی، لیکن این ڈی اے کے بھی 54 فیصد سے زیادہ ووٹرس اس مطالبہ سے متفق نظر آئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

فصلوں کی کم از کم قیمت (ایم ایس پی) کو پارلیمنٹ سے قانونی گارنٹی فراہم کرنے سے متعلق کسانوں کے مطالبہ پر آئی اے این ایس-سی ووٹر نے عام لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ایک اسنیپ پول کروایا۔ اس میں جواب دہندگان میں سے 62 فیصد سے زیادہ لوگ مانتے ہیں کہ ایم ایس پی کو قانونی طور پر گارنٹی ملنی چاہیے۔ صرف 21 فیصد لوگ اس کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آئے۔

ممکنہ طور پر این ڈی اے کو پسند کرنے والے ووٹرس کے مقابلے میں اپوزیشن کو پسند کرنے والے ووٹرس کے ایک بڑے حصے نے کسانوں کے مطالبہ کی حمایت کی۔ حالانکہ این ڈی اے کے بھی 54 فیصد سے زیادہ حامی کسانوں کے مطالبہ سے متفق نظر آئے۔ ابھی تک حکومت 23 فصلوں کے لیے ایم ایس پی فراہم کرتی ہے، پھر بھی اس کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔


جواب دہندگان سے جب اس سلسلے میں ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ دودھ، پھل، سبزیاں، انڈے، چکن اور اسی طرح کی خوردنی اشیاء پر قانونی طور سے گارنٹی ایم ایس پی کے لیے دیگر کسانوں کے ذریعہ کیے گئے یکساں مطالبہ سے متفق ہوں گے۔ اس پر تقریباً 70 فیصد جواب دہندگان نے واضح کیا کہ اگر یہ مطالبہ آتا ہے تو وہ اس سے متفق ہوں گے۔ این ڈی اے کے 63 فیصد سے زیادہ حامی بھی اس تصوراتی مطالبہ سے متفق تھے۔

قانونی طور سے گارنٹیڈ قیمتوں پر سبھی اناج اور باغبانی والی مصنوعات کو خریدنے کے لیے وسائل اور مالیت جٹانے کی حکومت کی صلاحیت کے بارے میں فکر کا اظہار کیا گیا ہے۔ حالانکہ جواب دہندگان نے اس فکر کو ظاہر نہیں کیا۔ 62.6 فیصد نے مشورہ دیا کہ حکومت سبھی فصلوں کے لیے قانونی طور سے گارنٹیڈ ایم ایس پی کی ادائیگی کر سکتی ہے۔ بیشتر اپوزیشن حامیوں نے بھی اتفاق کا اظہار کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔