ہماچل بی جے پی لیڈر پرمار نے پارٹی کو دیا جھٹکا، نائب صدر عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان

کرپال پرمار کا کہنا ہے کہ کئی سال سے انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتے، یہ کہتے ہوئے انھوں نے ریاستی بی جے پی نائب صدر عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔

بی جے پی کا جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
بی جے پی کا جھنڈا، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہماچل پردیش میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخاب میں شکست کا سامنا کرنے والی بی جے پی کو ہماچل بی جے پی نائب صدر کرپال پرمار نے بھی زوردار جھٹکا دے دیا ہے۔ منگل کے روز اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مجھے پارٹی میں گزشتہ کچھ سالوں سے نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ لیکن یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘ پرمار نے پارٹی کے ریاستی صدر سریش کشیپ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر پوسٹ کیا ہے۔

استعفیٰ نامہ میں پرمار نے لکھا ہے ’’میں، کرپال پرمار، نائب صدر، ہماچل بی جے پی، پارٹی کے عہدہ سے اپنا استعفیٰ بھیج رہا ہوں۔ برائے کرم اسے قبول کریں۔ میں الگ الگ مراسلوں میں اس کی وجہ بتاؤں گا۔‘‘ پرمار نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے لگاتار بی جے پی میں ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور وہ اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے سچے کارکن ہیں اور اس کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ استعفیٰ بی جے پی ریاستی مجلس عاملہ کی میٹنگ سے ٹھیک پہلے دیا گیا ہے۔


واضح رہے کہ ہماچل پردیش میں گزشتہ دنوں ہوئے ضمنی انتخاب میں پارٹی نے کانگڑا ضلع کی فتح پور اسمبلی سیٹ پر پرمار کی جگہ بلدیو ٹھاکر کو میدان میں اتارا تھا۔ وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے سمجھانے کے بعد انھوں نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب نہیں لڑا، لیکن وہ انتخابی تشہیر سے دور رہے۔ بلدیو ٹھاکر ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار بھوانی سنگھ پٹھانیا سے 5 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ اب پرمار کا کہنا ہے کہ یہ سب بس انھیں بے عزت کرنے کے لیے کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اب اور بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے، یہی وجہ ہے کہ عہدہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔