ڈینگو-ملیریا سے بچانے آ گئی ’ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین‘، پاور اسپرے سے مچھروں کا ہوگا صفایہ

’ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین‘ نئی دہلی سے شروع ہو کر پرانی دہلی، صدر بازار، سبزی منڈی اسٹیشن، آزاد پور، بادلی اور نریلا میں ریلوے لائن کے پاس جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ کرے گی۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مانسون کی بارش کے بعد مچھروں کا پیدا ہونا اور پھر اس سے پھیلنے والی بیماریوں کا سامنا عام بات ہے۔ لیکن اب اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا نام ہوگا ’ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین‘۔ دراصل ڈینگو، ملیریا اور چکن گنیا کے بڑھتے خطرات کو دیکھتے ہوئے ریلوے کے تعاون سے ’ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین‘ دہلی میں چلائی جائے گی۔ یہ ریلوے لائن کے آس پاس کے علاقوں میں ’پاور اسپرے‘ سے جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کرے گی تاکہ وہاں سے گزرنے والے لوگ یا پھر رہائش پذیر افراد مچھر کے کاٹنے سے کسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق ’ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین‘ نئی دہلی سے شروع ہو کر پرانی دہلی، صدر بازار، سبزی منڈی اسٹیشن، آزاد پور، بادلی اور نریلا میں ریلوے لائن کے پاس جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ کرے گی۔ برسات کے دنوں میں ریلوے لائن کے آس پاس گڈھوں میں پانی بھر جاتا ہے جس میں مچھر پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔


عوامی صحت محکمہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس مہم کے تحت تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو ڈینگو اور ملیریا جیسی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ جراثیم کش دوا جو استعمال کی جائے گی وہ ’ایکو فرینڈلی‘ ہے جس سے لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو نقصان نہیں ہوگا۔ شمالی دہلی کے میئر راجہ اقبال سنگھ نے ماسکیوٹو ٹرمنیٹر ٹرین کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ بھی کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈینگو کے معاملے اس سال 66 فیصد بڑھے ہیں، جب کہ ملیریا کے 8 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ کارپوریشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں اس سال ڈینگو کے معاملے زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال 17 اگست تک ڈینگو کے 41 اور 2019 میں اسی وقت تک 57 معاملے درج ہوئے تھے، لیکن اس بار ڈینگو کے 68 معاملے درج ہو چکے ہیں۔ اگر باہری ریاستوں سے آئے معاملوں کو ملا لیا جائے تو ڈینگو کے 79 معاملے ہو جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔