نتیش کمار سے آدھے سے زیادہ بہار ناراض، 30 فیصد افراد پی ایم مودی سے بھی ناخوش: سروے

بہار کے ووٹرس وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ناراض ہیں اور حکومت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہ بات ایک سروے میں سامنے آئی ہے، جس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ لوگ حکومت بدلنا چاہتے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

بہار میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان انتخابات کو لے کر سروے بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کے ساتھ کیے گئے سی-ووٹر کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ بہار کے نصف سے زیادہ ووٹر وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ناراض ہیں۔ حالانکہ وہ جس اتحاد یعنی این ڈی اے کا حصہ ہیں اس کی جیت کی امید بھی سروے میں ظاہر کی گئی ہے۔

بہار کے 25 ہزار سے زیادہ ووٹروں کے درمیان سبھی 243 اسمبلی حلقوں میں پہلی سے 25 ستمبر کے درمیان کیے گئے اس سروے میں اقتدار مخالف لہر سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 56.7 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ نتیش کمار کی حکومت سے ناراض ہیں اور بدلاؤ چاہتے ہیں۔ 29.8 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ناراض ہیں لیکن بدلاؤ نہیں چاہتے۔ 13.5 فیصد لوگ ایسے ہیں جنھوں نے کہا کہ وہ نتیش کمار کی حکومت سے ناراض نہیں ہیں۔

سروے کے مطابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی مجموعی کارکردگی کی بات کریں تو 45.3 فیصد لوگوں نے ان کی کارکردگی کو خراب بتایا ہے جب کہ 27 فیصد نے اسے اوسط اور 27.6 فیصد نے اچھا بتایا ہے۔ حالانکہ 30.9 فیصد کے ساتھ نتیش کمار کسی بھی وزیر اعلیٰ عہدہ کے ممکنہ امیدوار سے آگے ہیں۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو کو 15.4 فیصد، تو سشیل کمار مودی کو 9.2 فیصد لوگ وزیر اعلیٰ کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

غور طلب ہے کہ 2015 میں نتیش کمار کی جے ڈی یو اور بی جے پی نے الگ الگ انتخاب لڑا تھا۔ جے ڈی یو اس انتخاب میں آر جے ڈی اور کانگریس کے مہاگٹھ بندھن کا حصہ تھی۔ لیکن 2017 میں نتیش کمار نے مہاگٹھ بندھن سے رشتہ توڑ لیا تھا اور بی جے پی کے ساتھ مل کر اقتدار کی کرسی سنبھال لی تھی۔

بہر حال، وزیر اعلیٰ کی ایپروول ریٹنگ اچھی نہیں ہے، پی ایم نریندر مودی کو ہائی ایپروول ریٹنگ حاصل ہے۔ 48.8 فیصد لوگوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کارکردگی بہتر ہے جب کہ 21.9 فیصد نے ان کی کارکردگی کو اوسط اور 29.2 فیصد نے خراب قرار دیا۔

next