یمنا بازار میں مقیم 310 سے زائد خاندانوں کو عدالت سے نہیں ملی راحت، انہدامی کارروائی پر روک لگانے سے ہائی کورٹ کا انکار
جسٹس پروشیندر کمار کورو نے عرضی گزار یمنا بازار ریزیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے مجوزہ انہدامی کارروائی پر ایک ہفتے کے لیے روک لگانے کی عرضی کو بھی نامنظور کر دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو یمنا بازار علاقے میں رہ رہے 310 سے زائد خاندانوں کو جاری کیے گئے بے دخلی نوٹس کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس پروشیندر کمار کورو نے عرضی گزار یمنا بازار ریزیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے مجوزہ انہدامی کارروائی پر ایک ہفتے کے لیے روک لگانے کی عرضی کو بھی نامنظور کر دیا ہے۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ کل انہدامی کارروائی شروع ہونے کا امکان ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست ایک ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی تھی، لیکن اس کے ارکان کی طرف سے صحیح اتھارائزیشن اور نتائج کو برداشت کرنے کے لیے ان کے بائنڈنگ ایفی ڈیوٹ (حلف نامے) کی کمی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ عدالت اس رٹ پٹیشن پر سماعت نہیں کرنا چاہتی۔ یہ کوئی مفاد عامہ کی عرضی نہیں ہے اور اسے مقامی رہائشیوں کے کہنے پر ایسوسی ایشن نے دائر کیا ہے۔ اتھارائزیشن کے بغیر، درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ وہ رہائشیوں کی اتھارائزیشن کے ساتھ صحیح درخواست دائر کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
یمنا بازار ریذیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر درخواست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے تحت جاری کیے گئے ڈیمولیشن نوٹس کو منسوخ کرنے اور مجوزہ کارروائی کے خلاف عبوری ریلیف کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی گزار نے دلیل دی کہ یہ کارروائی من مانی تھی اور یمنا کے سیلابی میدانوں میں آفت کے خطرے کے بے بنیاد دعووں پر مبنی تھی۔ عرضی میں کہا گیا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر من مانی، غیر آئینی اور ہندوستان کے آئین کی دفعہ 14، 19، 21 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ مدعا علیہان نے یمنا گھاٹوں کی پرانی تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور آرکیٹیکچرل شناخت اور وہاں نسلوں سے رہ رہے پنڈا برادری پر غور کیے بغیر، پوری تاریخی بستی کو جان بوجھ کر ’غیر قانونی تجاوزات کا کلسٹر‘ مان لیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یمنا بازار کا علاقہ دہلی کے ماحولیاتی طور پر حساس ’او-زون‘ میں یمنا کے سیلابی میدان میں آتا ہے، جہاں ہر سال سیلاب آنے سے بار بار خطرہ بنا رہتا ہے۔ افسران نے بے دخلی کو درست قرار دیا کیونکہ بار بار سیلاب آنے کی وجہ سے ہر سال وہاں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے سے متعلق نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) کی ہدایات کا بھی حوالہ دیا۔ لیکن، درخواست گزار تنظیم نے دلیل دی کہ یہ انہدامی کارروائی دہلی کے ماسٹر پلان 2041 کے مطابق نہیں ہے، جو یمنا ریور فرنٹ کو ایک ایکو کلچرل زون مانتا ہے، جس کے لیے ہیریٹیج سینسیٹیو ڈیولپمنٹ کی ضرورت ہے۔
عرضی میں کہا گیا کہ افسران نے ایک مکینیکل اور یکطرفہ طریقہ اپنایا ہے۔ جس میں ماحولیاتی خدشات کو تاریخی تسلسل، ثقافتی تحفظ اور متاثرہ برادریوں کے حقوق کے ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ عرضی میں انہدامی کارروائی کے ثقافتی اور مذہبی اثرات پر بھی زور دیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اس کارروائی سے نہ صرف یہاں کے رہنے والے بے گھر ہوں گے، بلکہ یمنا ریور فرنٹ سے وابستہ ایک طویل عرصے سے چلا آرہا سماجی و مذہبی ایکو سسٹم بھی تباہ ہو جائے گا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
