پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: پیگاسس معاملہ پر حزب اختلاف کا ہنگامہ، دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

دو دن کی چھٹی کے بعد پیر کے روز جیسے ہی پارلیمنٹ کی کارروائی کا آغاز ہوا، حزب اختلاف کے ارکان پیگاسس جاسوی، کسان تحریک اور دیگر کئی مسائل پر ہنگامہ کرنے لگے اور ایوانوں کی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا

پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس لگاتار ہنگامہ کی نذر ہو رہا ہے اور حزب اختلاف کے ارکان پیگاسس سمیت کئی مسائل پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دو دن کی چھٹی کے بعد پیر کے روز جیسے ہی پارلیمنٹ کی کارروائی کا آغاز ہوا تو حزب اختلاف کے ارکان پھر سے ہنگامہ کرنے لگے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران راجیہ سبھا کی کارروائی کو دوپہر 12 بجے تک جبکہ لوک سبھا کی کارروائی کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ حزب اختلاف کے ارکان پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے جاسوسی کرائے جانے، کسان تحریک اور مہنگائی کے مسئلہ کے حوالہ سے حکومت پر حملہ آور بنی ہوئی ہے۔ راجیہ سبھا میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ شانتنو سین کو موجودہ اجلاس کی بقیہ مدت تک معطل کرنے کے چیئرمین کے فیصلہ پر بھی حزب اختلاف کی جانب سے ہنگامہ کیا جا رہا ہے اور شانتنو کی معطلی کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


ادھر، کسان تحریک کے سلسلہ میں بھی حزب اختلاف کی جانب سے ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ پیر کے روز کانگریس لیڈر راہل گاندھی منفرد اقدام اٹھاتے ہوئے ٹریکٹر چلا کر پارلیمنٹ پہنچے۔ راہل گاندھی کے ساتھ کئی پارٹی لیڈران ٹریکٹر پر بیٹھے ہوئے تھے، جن میں سے کئی کو بعد میں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ وہ کسانوں کا پیغام لے کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں اور حکومت کو سیاہ زرعی قوانین کو واپس لینا ہی ہوگا۔

عام آدمی پارٹی نے بھی پارلیمنٹ کے احاطہ میں واقع گاندھی کے مجسمہ پر مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ ’موت کا وارنٹ‘ واپس نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گی۔ پارٹی نے لوک سبھا میں التوا کا نوٹس بھی پیش کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔