محمد علی جوہر ٹرسٹ معاملہ: سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر لگائی روک، اعظم خان نے لی راحت کی سانس

گزشتہ سال ستمبر میں ہائی کورٹ نے زمین کو واپس اپنے کنٹرول میں لینے کے ریاستی حکومت کے حکم کو درست قرار دیا تھا، ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یونیورسٹی بنانے کے نام پر 471 ایکڑ زمین کو قبضے میں لیا گیا ہے۔

اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سماجوادی پارٹی لیڈر اعظم خان نے آج اس وقت راحت کی سانس لی جب مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو سپریم کورٹ سے عبوری راحت مل گئی۔ عدالت عظمیٰ نے یونیورسٹی بنوانے کے لیے حاصل کی گئی زمین حکومت کو واپس لوٹنے کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی ہے۔ یہ زمین اتر پردیش کے رام پور میں حاصل کی گئی تھی۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں ہوگی۔

گزشتہ سال ستمبر میں ہائی کورٹ نے زمین کو واپس اپنے کنٹرول میں لینے کے ریاستی حکومت کے حکم کو درست قرار دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یونیورسٹی بنانے کے نام پر 471 ایکڑ زمین کو قبضے میں لے لیا گیا۔ ساتھ ہی الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ’’یونیورسٹی بنانے کے لیے سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا۔ یہی نہیں، کالج کی جگہ مسجد کی تعمیر کی گئی اور یہ سب غیر قانونی ہے۔ اس لیے یونیورسٹی کے لیے ملی 12.5 ایکڑ زمین کو چھوڑ کر باقی ساری زمین پر ریاستی حکومت کا حق ہے۔‘‘


مولانا جوہر ٹرسٹ کی طرف سے سپریم کورٹ کے جسٹس اجے رستوگی اور سی ٹی روی کمار کی بنچ کے سامنے سینئر وکیل کپل سبل نے بحث کی۔ سپریم کورٹ نے ٹرسٹ کی اپیل کو سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے یوپی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے بتایا کہ حکومت نے زمین کو اپنے قبضے میں لینے کا عمل شروع کر دیا ہے، اس پر روک لگنی چاہیے۔ یوپی حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس مطالبہ کی سخت مخالفت کی۔ لیکن ججوں نے فی الحال اس معاملے میں جوں کا توں صورت حال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔