کرناٹک میں مودی-شاہ-یدی یورپّا کی جوڑی نے آئین کی دھجیاں اڑا دیں: کانگریس

کرناٹک کے سینئر کانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے بی جے پی پر ’ہورس ٹریڈنگ‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’پارٹی اس طرح کی حرکتوں سے باز نہیں آ رہی اور ریاست کا ماحول خراب کر رہی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کرناٹک میں مبینہ آڈیو ٹیپ جاری ہونے کے دعووں کے بعد 9 فروری کی صبح کانگریس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی اور پی ایم نریندر مودی پر کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ساتھ ہی پریس کانفرنس میں پی ایم نریندر مودی کے لیے کئی سوالات پیش کیے گئے اور کہا کہ اگر ان سوالوں کے جواب وہ نہیں دیتے تو ثابت ہو جائے گا کہ ’چوکیدار ہی چور ہے‘۔

آج پریس کانفرنس میں کانگریس نے بی جے پی پر کرناٹک میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ اراکین اسمبلی کو 10-10 کروڑ کا آفر دینے اور کماراسوامی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر امت شاہ اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ یدی یورپّا پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کرناٹک کے سینئر کانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے کہا کہ بی جے پی اس طرح کی حرکتوں سے باز نہیں آ رہی اور ریاست کا ماحول خراب کر رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کی جے ڈی ایس-کانگریس حکومت پوری طرح سے مستحکم ہے اور اپنی مدت کار مکمل کرے گی۔ وینوگوپال نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’آڈیو ٹیپ میں یدی یورپّا ہر رکن اسمبلی کو 10-10 کروڑ روپے دینے کی بات کہہ رہے ہیں، ظاہر ہے کہ 18 اراکین اسمبلی کی بات ہو رہی ہے۔ گویا کہ یہ تقریباً 200 کروڑ کی بات ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’12 اراکین اسمبلی کو وزارتی عہدہ دینے اور 6 کو مختلف بورڈس میں چیئرمین کا عہدہ دینے کی پیشکش کی گئی۔‘‘

وینو گوپال نے پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ 10 کروڑ کا آفر دیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انتخابات کے اخراجات بھی دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔‘‘

اس پریس کانفرنس سے کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی قومی صدر امت شاہ پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کرناٹک میں ’تکڑی‘ (مودی-شاہ-یدی یورپّا) نے مل کر آئین کے پرخچے اڑا دیئے ہیں اور ’پاور ایٹ اینی کوسٹ‘ (کسی بھی قیمت پر حصولِ حکومت) کی کوشش ہو رہی ہے۔ اب اس کھیل میں مودی جی اور امت شاہ جی کے شامل ہونے کا جو شک تھا، وہ پختہ یقین میں بدل گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی سرجے والا نے یہ بھی کہا کہ ’’مودی جی کو بتانا چاہیے کہ 200 کروڑ کا یہ آفر وہ کہاں سے دے رہے تھے۔ یہ کالا دھن ہے یا نہیں؟‘‘

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے مبینہ آڈیو ٹیپ جاری کیا تھا۔ کرناٹک حکومت نے بی جے پی پر حکومت گرانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ (خرید و فروخت) کا الزام عائد کیا۔ ریاست میں جے ڈی ایس-کانگریس کی حکومت بننے کے بعد سے ہی لگاتار اراکین اسمبلی کے پارٹی بدلنے یا پھر پارٹی میں واپسی کے ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔ کماراسوامی حکومت ریاست میں کام ضرور کر رہی ہے لیکن بار بار کوئی نہ کوئی بات ایسی سامنے آ جاتی ہے جس سے بحران کی کیفیت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

Published: 9 Feb 2019, 11:09 AM