قومی

مودی-شاہ کی جوڑی نے ہر ریاست کے ثقافتی و وفاقی ڈھانچہ پر حملہ کیا: کانگریس

مغربی بنگال کے تشدے کے دوران عظیم مفکر ایشور چندر ودیا ساگر کے مجسمہ کو نقصان پہنچانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کے ہر علاقے میں اسی طرح سے عظیم لوگوں کی توہین کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے مغربی بنگال میں منگل کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے روڈ شو کے دوران ہوئے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کو اس کا سبب بتایا اور الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور شاہ نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو تباہ کردیا ہے۔

کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی شاہ کی جوڑی ملک کے ثقافتی تنوع اور وفاقی ڈھانچے پر حملہ کر رہی ہے۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران مودی اور شاہ نے ملک کے تقریباَ ہر ریاست میں ثقافتی تنوع کو نشانہ بنایا ہے اور وفاقی ڈھانچے کو منہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔

مغربی بنگال کے تشدے کے دوران عظیم مفکر ایشور چندر ودیا ساگر کے مجسمہ کو نقصان پہنچانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کے ہر علاقے میں اسی طرح سے عظیم لوگوں کی توہین کی ہے۔ امت شاہ کی ٹیم کے ایک رکن ایچ راجا نے کیرل میں عظیم مصلح پیریار کے مجسمہ کو نقصان پہنچایا اور پارٹی کے جنرل سکریٹری رام مادھو نے ان کی اس حرکت کو درست قرار دیا تھا۔ اسی طرح سے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو چینئی میں بدرنگ کیا گیا اور پچھلے دنوں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پتلا کو گولی ماری گئی اور باپو کے قاتل ناتھو رام گوڈے کے مجسمہ کو پھولوں کی مالا پہنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اروناچل پردیش، اتراکھنڈ، گوا، میگھالیہ میں آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وہاں غلط طریقے سے حکومت قائم کی ہے۔ مرکز کی مودی حکومت نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دیا اور جموں و کشمیر کے لئے منظور شدہ اسی ہزار کروڑ روپے کے پیکج میں سے صرف 31فیصد رقم ہی جاری کی۔ اسی طرح بہار کو سوا لاکھ کروڑ روپے کا پیکج دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن دو سال میں وہاں ایک پیسہ نہیں دیا گیا ہے۔