’مودی سرکار: نفرت کا بازار‘، اقلیتوں کے خلاف ’ہیٹ اسپیچ‘ میں 13 فیصد اضافہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات سے متعلق 1318 واقعات درج کیے گئے ہیں، جو کہ 2024 میں 1165 اور 2023 میں 668 تھے۔

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان میں اقلیتی طبقہ کے خلاف ’ہیٹ اسپیچ‘ کا معاملہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ اس حقیقت پر گزشتہ دنوں سامنے آئی ایک رپورٹ نے مہر لگانے کا کام کیا ہے۔ اب کانگریس نے اس معاملہ میں مودی حکومت کو ہدف بنایا ہے۔ کانگریس نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کی ایک سرخی کا اسکرین شاٹ ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’مودی سرکار: نفرت کا بازار‘‘۔ اس پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ اور ’نفرت کے دن‘ (’اچھے دن‘ کا برعکس) سلوگن بھی لگایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سامنے آئی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران ہندوستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتی طبقہ کے خلاف ’ہیٹ اسپیچ‘ یعنی نفرت پر مبنی بیانات میں 13 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ’رائٹرس‘ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن واقع تحقیقی ادارہ ’انڈیا ہیٹ لیب‘ نے گزشتہ منگل کو بتایا تھا کہ 2025 کے دوران ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ’ہیٹ اسپیچ‘ کے 1318 واقعات درج کیے گئے، جو کہ 2024 میں 1165 اور 2023 میں 668 تھے۔ ان میں سے بیشتر معاملے بی جے پی حکمراں ریاستوں میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ ہیٹ اسپیچ کے معاملے سیاسی ریلیوں، مذہبی جلوس اور ثقافتی تقاریب کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں میں بھی سامنے آئے۔


غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2014 میں نریندر مودی حکومت بننے کے بعد ہندوستان میں اقلیتوں کا استحصال بڑھا ہے۔ بہرحال، ’انڈیا ہیٹ لیب‘ امریکہ میں بسے کشمیری صحافی رقیب حمید نائک نے قائم کیا ہے اور یہ واشنگٹن واقع ’تھنک ٹینک سنٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ‘ کا ایک پروجیکٹ ہے۔ لیب کے مطابق وہ ’ہیٹ اسپیچ‘ کی اقوام متحدہ کے ذریعہ طے تعریف کا استعمال کرتی ہے۔ اس کے مطابق ’ہیٹ اسپیچ‘ دراصل کسی شہری یا گروپ کے خلاف مذہب، قومیت، نسل، جنس کی بنیاد پر تعصب والی زبان کا استعمال کرنا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔