مودی حکومت نیتا جی سبھاش چندر بوس کی یادوں کو مٹا رہی ہے: ممتا بنرجی

ممتا بنرجی نے نیتا جی کے تئیں مودی حکومت کے احترام پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ ’’پلاننگ کمیشن نتیاجی کی یاد گار تھی اور ان کے تصورات کا نتیجہ تھی، لیکن مرکزی حکومت نے پلاننگ کمیشن کو ختم کردیا۔‘‘

ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے آج نیتاجی سبھاش چندر بوس کے 125ویں یوم پیدائش کے موقع پر پدیاترا کے بعد اپنے مختصر خطاب میں نتیاجی کے تئیں مرکز کی مودی حکومت کے احترام اور محبت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ پلاننگ کمیشن نتیاجی سبھاش چند ر بوس کی یاد گار تھی اور ان کے تصورات کا نتیجہ تھی مگر مرکزی حکومت نے پلاننگ کمیشن کو ختم کر دیا ہے۔ دراصل یہ نتیاجی کی یاد کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کو قومی تعطیل بھی قرار نہیں دے رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ نیتاجی قومی ہیرو تھے اور انہوں نے ملک کے تمام طبقات کو متحد اور اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے نیتاجی سبھاش چندر بوس کو قومی ہیرو قرار دیا تھا۔ ممتا بنرجی مزید نے کہا کہ نیتاجی کا نام سنتے ہی میں جذباتی ہوجاتی ہوں کہ کس طرح انہوں نے ملک کو متحد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم کیا تھا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ آج ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے وفاق کو مضبوط کیا جائے۔ ممتا بنرجی نے ون نیشن ون لیڈر کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیالات نیتاجی کے فکر کے مخالف ہے۔

نیتا جی کی سالگرہ کے موقع پر ممتا بنرجی نے چار ہندوستانی دارالحکومتوں کا مطالبہ کیا۔ اس کا مطالبہ پسند ہے اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پول سے پہلے کے ماحول میں یہ بہت اہم ہے۔ اس سے قبل ممتا بنرجی نے نتیاجی بھون پہنچ کر نیتاجی کو خراج عقید ت پیش کیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ نیتاجی کسی کے رحم و کرم پر رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کلکتہ ملک کا ثقافتی راجدھانی رہا ہے اور نیتاجی اس کو اسی انداز میں دیکھتے تھے۔ اس موقع پر شمالی کلکتہ کے شیام بازار سے ممتا بنرجی کی قیادت میں پدیاترا نکالی گئی، جو بھوپین باسو ایونیو، چترنجن ایوینیو، دھرمتلہ، رانی راش منی ایونیو سے ہوتے ہوئے ریڈ روڈ تک جا کر پہنچی۔ یاترا میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next