مدرسوں کی مالی مدد مودی حکومت نے روکی، گہلوت حکومت نے دیئے 188 لاکھ روپے

راجستھان کی کانگریس حکومت میں اقلیتی وزیر صالح محمد نے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو ذی شعور شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اچھی سوچ اور سمجھ کی وجہ سے ہی ریاست کے مدرسوں کو نئی زندگی ملی ہے۔

مدرسہ (علامتی تصویر)
مدرسہ (علامتی تصویر)

قومی آوازبیورو

راجستھان میں مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ مدرسہ کو مالی امداد کرنے سے ہاتھ پیچھے کھینچے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ راجستھان میں اقلیتی امور کے وزیر صالح محمد نے مرکز پر دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی اس پالیسی کا خمیازہ ریاست کے مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دراصل مرکزی حکومت کی طرف سے راجستھان کے 3240 مدرسوں کو 9 کروڑ روپے کی مالی مدد ملتی تھی، لیکن اس بار مودی حکومت نے مالی امداد نہیں کی۔ اس کے پیش نظر راجستھان کی گہلوت حکومت نے ریاست کے مدرسوں کی مدد کے لیے 188 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

جب تک راجستھان میں بی جے پی کی حکومت رہی، مرکز کی طرف سے ملنے والی مدد مدرسوں کو جاری رہی، لیکن بی جے پی کے اقتدار سے باہر ہونے اور کانگریس کے قابض ہونے کے بعد ہی مدد بند ہو گئی ہے۔ مالی مدد نہیں ملنے کی وجہ سے کئی مدرسے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے مدرسوں کی حالت پر فکر ظاہر کرتے ہوئے ان کے لیے معاشی مدد کا اعلان کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ راجستھان حکومت کی طرف سے اعلان کردہ رقم کا استعمال مدرسوں کے انتظامی اور ترقیاتی کاموں میں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اسکول سہولت گرانٹ کے تحت مدرسوں کو ملنے والی رقم ابھی جاری نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت سے امدادی رقم کو جاری رکھنے کی گزارش کریں گے۔

ریاستی حکومت کے ذریعہ مدرسوں کے لیے جاری کی گئی رقم سے متعلق اشوک گہلوت نے کہا کہ مرکزی حکومت سے پیسے ملنے میں تاخیر کی وجہ سے راجستھان حکومت کی طرف سے یہ مدد دی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ ان مدارس کے انتظام و انصرام میں کسی بھی طرح کا خلل پیدا نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں بھی مدرسوں کو امدادی رقم کی ضرورت پڑتی ہے تو ریاستی حکومت کی طرف سے انھیں یہ رقم دستیاب کرائی جائے گی۔

راجستھان حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر صالح محمد نے مرکزی حکومت پر دوہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پالیسی کا خمیازہ ریاست کے مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے مودی حکومت کے ذریعہ کیے جانے والے ان دعووں پر بھی سوال کھڑے کیے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اقلیتی طبقہ کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔

صالح محمد کا کہنا ہے کہ راجستھان کے مدرسوں کو دی جانے والی امدادی رقم روک کر مرکزی حکومت نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ صالح محمد نے صوبے کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو ذی شعور بتایا اور کہا کہ ان کی اچھی سوچ اور سمجھ کی وجہ سے ہی ریاست کے مدرسوں کو نئی زندگی ملی ہے۔

Published: 16 Nov 2019, 12:11 PM