انتخابات میں کشتی ڈوبی تو مودی حکومت نے جی ایس ٹی پر سیاست شروع کر دی: کانگریس

کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی ’تباہ کن‘ ہے اور جی ایس ٹی جیسے اہم معاملات پر ان کے ’تغلقی فرمان‘ کا خمیازہ ملک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ویڈیو گریب
ویڈیو گریب
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے وزیر اعظم نریندرمودی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا الیکشن کی آمد دیکھ کر جی ایس ٹی پر سیاست شروع کردی ہے اور اب وہی قدم اٹھانے کی بات کی جارہی ہے جس کا ذکر ان کی پارٹی مسلسل ساڑھے چار سال سے کررہی ہے۔

کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ مودی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایسے قدم اٹھانے کی کوشش کررہی ہے جس سے 99 فیصد اشیاء 18فیصد جی یس ٹی کے دائرے میں آسکے۔ ان کی حکومت کچھ اشیاء کو جلد ہی اس دائر ے میں لارہی ہے اور وہ صر ف لگزری اشیاء کو ہی 28فیصد کے دائرے میں رکھنا چاہتی ہے۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ مودی جی ایس ٹی پر سیاست کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس شروع سے کہہ رہی ہے کہ تمام اشیاء کو 18فیصد سے زیادہ کے دائرے میں نہیں ہونا چاہئے۔ خود حکومت کے سابق اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم نے بھی تمام اشیاء کو پندرہ سے اٹھارہ فیصد کے دائرے میں رکھنے کا مشورہ دیا تھا لیکن انا نیت پسند مودی حکومت نے ان مشوروں پر توجہ نہیں دی ۔ حالیہ انتخابات میں کشتی ڈوبی تو آئندہ کے لئے خطرہ بھانپتے ہوئے جی ایس ٹی پر سیاست شروع کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی ’تباہ کن‘ ہے اور جی ایس ٹی جیسے اہم معاملات پر ان کے ’تغلقی فرمان‘ کا خمیازہ ملک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مودی کے بیان کو’ دوہراپن اور انتخابی لالی پاپ‘ قرار دیا اور کہا کہ عوام ان کی حقیقت سمجھ چکی ہے او رعام انتخابات میں بی جے پی کے بہکاوے میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی جو بات اب کررہے ہیں کانگریس وہی بات ساڑھے چار سال سے مسلسل کررہی ہے لیکن ان کے مشورے پر اس وقت توجہ نہیں دی گئی۔ آدھے ادھورے جی ایس ٹی کو نصف رات کو پارلیمنٹ طلب کرکے نافذ کردیا گیا۔