’مودی حکومت درج فہرست ذات و قبائل کے مرکزی بجٹ میں چوری کر رہی‘، کانگریس نے عائد کیا سنگین الزام
کانگریس لیڈر راجندر پال گوتم نے کہا کہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لیے مرکزی بجٹ کا صرف 41 فیصد ہی حقیقی معنوں میں ان کی ترقی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر درج فہرست ذات و قبائل کے بجٹ سے چوری کر اس رقم کو دیگر کاموں میں استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان طبقات کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مخصوص منصوبوں کے بجٹ میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ کانگریس لیڈران نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت ایک مرکزی قانون لائے، تاکہ ایس سی-ایس ٹی کا بجٹ انہی کے لیے استعمال ہو اور ضائع نہ ہو جائے۔
اس معاملہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس درج فہرست ذات ڈپارٹمنٹ کے صدر راجندر پال گوتم اور آدیواسی کانگریس کے قومی صدر ڈاکٹر وکرانت بھوریا نے بتایا کہ مودی حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے 58 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ میں سے درج فہرست ذات کے لیے 1,96,400 کروڑ روپے اور درج فہرست قبائل کے لیے 1,41,089 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے بجٹ کا صرف 41 فیصد ہی حقیقی معنوں میں ان کی ترقی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ 42 فیصد رقم عام منصوبوں میں اور 17 فیصد ایسی اسکیموں میں جا رہی ہے جن کا دلتوں اور قبائلیوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔
راجندر پال گوتم نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایس سی-ایس ٹی کے بجٹ میں سے یوریا سبسڈی کے لیے 14,584 کروڑ روپے، فرٹیلائزر سبسڈی کے لیے 6,804 کروڑ روپے، ٹیلی کام کمپنسیشن کے لیے 2,539 کروڑ روپے، انفراسٹرکچر مینٹیننس کے لیے 2,535 کروڑ روپے اور روڈ ورکس کے لیے 10,150 کروڑ روپے دیے گئے، جبکہ ایس سی-ایس ٹی برادری کے بیشتر لوگ بے زمین ہیں اور زرعی سبسڈی کا فائدہ انہیں نہیں ملتا۔
راجندر پال گوتم نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے مخصوص منصوبوں کا بجٹ مسلسل گھٹ رہا ہے اور نظرثانی شدہ بجٹ میں اسے مزید کم کر دیا جاتا ہے۔ کئی منصوبوں میں فنڈ سرنڈر ہو جاتا ہے۔ مثال پیش کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ حکومت رقم کی کمی کا بہانہ بنا کر بچوں کے خواب توڑ رہی ہے۔ نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے تحت منتخب 106 بچوں میں سے صرف 40 بچے ہی بیرون ملک جا سکے، جبکہ 66 بچوں کو ’فنڈ کی کمی‘ بتا کر روک دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے دوران 48,000 بچوں نے خودکشی کی، جن میں بیشتر ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی سماج سے تھے۔ انہوں نے اس کی بنیادی وجہ ذات پات پر مبنی امتیاز اور بھاری فیس کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی اسکالرشپ وقت پر نہیں آتی، جس سے قرض بڑھ جاتا ہے اور پریشان ہو کر طلبا یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا خودکشی جیسے سخت قدم اٹھا لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس سی-ایس ٹی فائنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشنز کی حالت بھی اچھی نہیں ہے اور بجٹ کی کمی کے باعث یہ ایس سی-ایس ٹی طبقات کے طلبا کو قرض نہیں دے پا رہے ہیں۔
دوسری طرف آدیواسی کانگریس کے قومی صدر ڈاکٹر وکرانت بھوریا نے بجٹ کو چوری کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کے لیے مختص 1.41 لاکھ کروڑ روپے میں سے درحقیقت مخصوص بجٹ محض 64,000 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائبل سب پلان کا بجٹ صرف قبائلیوں کے لیے منظور ہونے کے باوجود اسے دوسرے محکموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اندور میٹرو اور وزیر اعظم کی ریلیوں میں یہ رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔