مودی حکومت کانگریس حکمراں ریاستوں کو پریشان کرنے کے لیے گورنرس کو ’کٹھ پتلی‘ بنا رہی: کھڑگے

کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم دفتر اور وزیر داخلہ دفتر کے ذریعہ گورنر کو براہ راست ہدایت دی جاتی ہے کہ گورنر سدارمیا یا کانگریس حکومت کے ذریعہ تیار کردہ تقریروں کو نہ پڑھیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر ہفتہ کے روز ایک تقریب کے دوران گورنرس کو ’کٹھ پتلی‘ کی طرف استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کانگریس حکمراں اور غیر بی جے پی حکمراں ریاستوں کی حکومتوں کو پریشان کرنے کے لیے گورنرس کو ’کٹھ پتلی‘ بنا رہی ہے۔ آئندہ سبھی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ کرنے کی عوام سے گزارش کرتے ہوئے کھڑگے نے متنبہ کیا کہ ایسا نہ کرنے پر تاناشاہی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔

مرکزی حکومت پر ریاستی حکومت کے کاموں میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم دفتر اور مرکزی وزارت داخلہ گورنرس کو ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت ان دفاتر کے ذریعہ گورنرس کو براہ راست ہدایت دیتی ہے کہ وہ سدارمیا یا کانگریس حکومت کے زریعہ تیار کی گئی تقریروں (ریاستی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس کے دوران) نہ پڑھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ حالت صرف کرناٹک میں ہی نہیں ہے، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں بھی ہے جہاں کانگریس یا غیر بی جے پی حکومتیں ہیں۔ ان ریاستوں میں گورنرس کے ذریعہ گڑبڑی پیدا کی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گورنرس ذاتی طور پر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انھیں اوپر سے ہدایات ملتی ہیں۔ کانگریس صدر نے تقریب میں موجود عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی اقتدار سے ہٹانے کے لیے آئندہ سبھی انتخابات میں، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، بی جے پی کے خلاف ووٹ کریں۔ تبھی غریب، متوسط طبقہ، چھوٹے کام کرنے والے لوگ بچ پائیں گے، ورنہ اس ملک میں ہٹلر، مسولنی، صدام حسین جیسا راج آئے گا۔‘‘


راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کھڑگے نے یہ بیان کرناٹک کے ہبلی میں ’سلم ڈیولپمنٹ بورڈ‘ کی گولڈن جبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر انھوں نے منریگا کو ختم کرنے کے لیے بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومتوں نے حقوق پر مبنی قوانین بنائے تھے، لیکن مودی حکومت ایسے قوانین لا رہی ہے جو لوگوں کے حقوق کو محدود کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے غریب مزدوروں کے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی منریگا لائے تھے، جسے مودی حکومت برباد کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نے نہ صرف منریگا کا نام بدل دیا، بلکہ اس کا بوجھ بھی ریاستی حکومتوں پر ڈال دیا ہے، جو ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’نریندر مودی اپنی تقریروں میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ملک کے لیے انھوں نے کیا کچھ کیا؟ نریندر مودی جس کانگریس کو دن بھر برا بھلا کہتے ہیں، اسی کانگریس نے عوام کے لیے کام کیا ہے۔ لوگوں کو تعلیم دی، کھانے کا انتظام کیا، سر پر چھت دی اور اس وجہ سے کنبوں میں خوشحالی آئی۔ ملک میں غریبوں و مزدوروں کو روزگار دینے کے لیے منریگا اسکیم بھی منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی نے ہی شروع کی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نہرو جی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ انھوں نے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایچ اے ایل، بی ای ایل، بی ایچ ای ایل، ایچ ایم ٹی، بڑے بڑے پشتے بنائے اور ڈھیر سارے ریلوے پروجیکٹ، پاور پلانٹ بنائے۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ ملکارجن کھڑگے نے اس تقریب میں 42 ہزار 345 مکانات کا افتتاح کیا جو کہ ریاست بھر میں بے گھر افراد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جانکاری بھی دی۔ کھڑگے نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج میں نے ہبلی میں کرناٹک حکومت کے ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ریاست بھر میں بے گھر افراد کے لیے تیار کیے گئے 42 ہزار 345 مکانات کے افتتاح اور ’سلم ڈیولپمنٹ بورڈ‘ کے ذریعے 46,000 مکانات کے لیے ٹائٹل ڈیڈس کی تقسیم میں حصہ لیا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ملک میں ہر ایک شخص کو پناہ دینے کی نیک نیتی کے ساتھ کانگریس کی قیادت والی کرناٹک حکومت ریاست بھر میں لاکھوں گھر بنا رہی ہے۔ بے گھر افراد کو مستقل پناہ فراہم کرنا کانگریس پارٹی کا مشن ہے۔ اس طرح کی عوام نواز اسکیمیں پورے ملک میں کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں نافذ ہو رہی ہیں اور ان کا اثر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘