ایندھن وگیس کی قیمتیں بڑھا کر مودی حکومت عوام کا استحصال کررہی ہے: ناناپٹولے

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے کا کہنا ہے کہ ’’یو پی اے حکومت کے دور میں بی جے پی کو ’مہنگائی ڈائن‘ لگتی تھی، اور اب یہی زندگی کو محال کردینے والی مہنگائی ’ڈارلنگ‘ لگ رہی ہے۔‘‘

نانا پٹولے، تصویر یو این آئی
نانا پٹولے، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ممبئی: ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت ملک کی عوام کو بے سہارا چھوڑ کر محض اپنے چند سرمایہ دار ’متروں‘ کے لیے کام کر رہی ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے زندگی محال تھی کہ آج ایک بار پھر کوکنگ گیس کی قیمتوں میں 25 روپیہ اضافہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔ مودی حکومت عام آدمی کی زندگیوں سے چمٹی ہوئی ایک جونک کی مانند ہوگئی ہے جوان کا خون چوس رہی ہے۔ مودی حکومت کے خلاف یہ سخت بیان آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے دیا ہے۔ وہ مرکزی حکومت کے ذریعے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے تھے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ جنوری مہینے سے مودی حکومت نے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے 190 روپئے بڑھا دیا ہے۔ یو پی اے حکومت کے دور میں 440 روپئے میں ملنے والا یہ ایل پی جی گیس اب 900 روپئے تک پہنچ چکا ہے۔ ’اجوالا‘ اسکیم کے نام پر غریبوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اجولا اسکیم کے تحت گیس کے نام پر غریبوں کو مٹی کا تیل دینا بند کر دیا گیا ہے اور اب گیس سلنڈر 900 روپئے تک مہنگا کر دیا گیا ہے۔ اتنا مہنگا گیس سلنڈر ملک کی غریب عوام کس طرح خرید سکے گی؟ سچائی یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کی عوام کو بے سہارا چھوڑ کر محض اپنے چند سرمایہ دار دوستوں کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ گزشتہ 8 مہینوں میں مرکزی حکومت نے 67 مرتبہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ پٹرول 107 روپئے، ڈیژل 96 روپئے لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ کوکنگ گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ کرتے ہوئے مودی حکومت نے گزشتہ سات سالوں میں تقریباً 25 لاکھ کروڑ روپئے کا منافع کمایا ہے اور عام آدمی کو منہگائی کی کھائی میں ڈھکیل دیا ہے۔


پٹولے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مرکز میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت تھی تو مہنگائی کے بوجھ سے عام آدمی کو بچانے کے لیے ایندھن و گیس پر سبسیڈی دی جا رہی تھی جس کا فائدہ عوام کو ہو رہا تھا۔ اب مودی حکومت نے وہ سبسیڈی بھی بند کر دی ہے۔ یو پی اے حکومت کے دور میں ’مہنگائی ڈائن‘ لگنے والی بی جے پی کو اب یہی زندگی کو محال کردینے والی مہنگائی ’ڈارلنگ‘ لگ رہی ہے۔ 2014 میں جھوٹے وعدے اور خواب دکھا کر اقتدار میں آنے والی مودی حکومت نے کسانوں، مزدوروں و محنت کشوں سمیت اوسط طبقے کے لوگوں کا بھی جینا محال کر دیا ہے۔ کانگریس کی حکومتوں نے جو پروجیکٹ تعمیر کیا تھا انہیں گزشتہ سات سالوں سے محض فروخت ہی کیا جا رہا ہے۔ سرکاری کمپنیاں، بینک، ایل آئی سی و ریلوے سمیت سب کچھ مودی حکومت اپنے سرمایہ دار ’متروں‘ کے حوالے کرتے ہوئے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ملک کی عوام مودی حکومت کے اس کام کاج سے بیزار ہو چکی ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ان میں زبردست ناراضگی ہے۔ یہ ناراضگی واضح طور پر مودی حکومت کے خلاف ہی نکلے گی اور عوام ہی مودی حکومت کو اس کی اوقات دکھائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔