’مودی حکومت ریلوے ملازمین کو بھی چونا لگا رہی، غضب فراڈ لوگ ہیں‘، چاندی کا نقلی سکہ دیے جانے پر کانگریس حملہ آور

کانگریس نے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ان کی حکومت کا کارنامہ دیکھیے، ریلوے ملازمین کو ریٹائر ہونے پر نقلی چاندی کا سکہ تحفہ میں پیش کر دیا گیا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش میں سبکدوش ریلوے ملازمین کو نقلی چاندی کا سکہ بطور تحفہ پیش کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تانبا سے تیار سکہ کو چاندی کا بتا کر پیش کر دیا گیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد سکہ بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت بھی کٹہرے میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس معاملہ میں وزیر اعظم مودی کو بھی نشانہ پر لیا ہے۔

کانگریس نے ’للن ٹاپ‘ پر شائع ایک رپورٹ کا اسکرین شاٹ اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی عوام کو چونا لگانے میں ماہر ہیں۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اب ان کی حکومت کا کارنامہ دیکھیے۔ ریلوے ملازمین کو سبکدوش ہونے پر نقلی چاندی کا سکہ تحفہ میں پیش کر دیا گیا۔ جب ملازمین سکہ فروخت کرنے پہنچے تو سنار نے کہا— یہ تو نقلی ہے۔ یہ چاندی کا نہیں، تانبے کا سکہ ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں کانگریس تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھتی ہے ’’مودی حکومت ریلوے کے ملازمین کو بھی چونا لگا رہی ہے۔ غضب فراڈ لوگ ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ ویسٹ سنٹرل ریلوے کے بھوپال ڈویژن میں اس بڑے گھوٹالہ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس محکمہ سے سبکدوش ہونے والے ملازمین کو وداعی تقریب میں دیے جانے والے چاندی کے سکّے نقلی پائے گئے ہیں۔ خالص چاندی کی جگہ ان سکوں میں کافی مقدار تانبا کی موجود تھی۔ یہ معاملہ تب سامنے آیا جب کچھ سبکدوش ملازمین کو پیسوں کی ضرورت پڑی اور وہ ان سکوں کو فروخت کرنے کے لیے بازار پہنچے۔ جو جوہری نے سکہ کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ اس میں چاندی محض 0.23 فیصد ہے، باقی حصہ تانبا ہے۔ اصول کے مطابق ان سکوں میں 99.9 فیصد چاندی موجود ہونی چاہیے تھی۔

سبکدوش ملازم ڈی کے گوتم نے میڈیا سے بتایا کہ ’’ہمیں لگا یہ محکمہ کی یادگار ہے، لیکن جب پتہ چلا کہ یہ تانبا ہے تو میں ٹھگا ہوا محسوس کرنے لگا۔ یہ ہماری بے عزتی ہے۔‘‘ اس معاملے پر جب ریلوے وجلنس نے جانچ کی تو حیران کرنے والے انکشافات ہوئے۔ ریلوے نے اندور کی فرم میسرس ڈائمنڈ بائبل کمپنی کو 3640 سکوں کا آرڈر دیا تھا۔ بھوپال کے جنرل اسٹور میں مجموعی طور پر 3631 سکّے پہنچے تھے۔ ہر سکہ کی قیمت تقریباً 2500 روپے اندازہ کی گئی تھی۔ اس لحاظ سے کمپنی نے ریلوے کو تقریباً 90 لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ہے۔


یہ معاملہ طول پکڑتے ہی ریلوے انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے۔ ریلوے نے اندور کی قصوروار فرم ’میسرس ڈائمنڈ بائبل‘ کو فوری اثر سے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ بھوپال کے بجریا تھانہ میں ریلوے ویجلنس کے ذریعہ شکایتی درخواست بھی دی گئی ہے۔ اس تعلق سے بجریا تھانہ کے ایس آئی آروند کمار سنگھ نے بتایا کہ ریلوے سے کچھ جانکاریاں فراہم کرنے کو کہا گیا ہے، جس کے بعد قصورواروں کی گرفتاری کی جائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔