مودی حکومت سات مہینے نہیں بلکہ سات سال سے کسانوں پر ظلم و ستم کر رہی ہے: سرجے والا

سرجے والا نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس پورے عزم اور مضبوطی کے ساتھ ملک کے کسان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آج ہونے والے کسانوں کے پرامن مظاہرہ کی پرزور حمایت کرتی ہے۔

کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو سات مہینے پورے ہونے کے موقع پر کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت سات سالوں سے کسانوں کے حقوق پامال کر رہی ہے اور گزشتہ ساتھ مہینے میں تو اس نے ظلم و ستم کی تمام حدود پار کر دی ہیں۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں آج تک بے رحم حکومت کا اتنا ظلم و ستم نہیں دیکھا گیا، جتنا مودی حکومت کی طرف سے گزشتہ سات مہینوں میں انداتا کسانوں کے ساتھ لگاتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسانوں پر لاٹھی برسائی جاتی ہیں، کبھی آنسو گیس کے گولے داغے جاتے ہیں اور کبھی ان کے راستوں پر کیل اور کانٹیں بچھائے جاتے ہیں۔


سرجے والا نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس پورے عزم اور مضبوطی کے ساتھ ملک کے کسان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آج ہونے والے کسانوں کے پرامن مظاہرہ کی پرزور حمایت کرتی ہے۔ سرجے والا نے کسانوں کو ستائے جانے کے سات ثبوت بھی پیش کیے:

  1. سال 2014 میں حکومت سازی کے ساتھ ہی آرڈیننس کے توسط سے کسانوں کی زمین سے متعلق ’مناسب معاوضہ قانون 2013‘ میں ترمیم کر کے کسانوں کی زمین ہڑپنے کی کوشش کی۔

  2. وعدہ کرنے کے بعد بھی 2015 میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ پیش کر کے کسانوں کو سپورٹ پرائس پر لاگت مع 50 فیصد منافع دینے سے انکار کر دیا۔

  3. سال 2016 میں فصل بیمہ اسکیم کے نام پر پرائیویٹ کمپنیوں کو لوٹ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ اس اسکیم کے تحت 2016 سے 2019 تک مرکز، ریاستی حکومتوں اور کسانوں نے 99 کروڑ سے زیادہ کا پریمیم ادا کیا اور بیمہ کمپنیوں نے 26 کروڑ سے زیادہ کا منافع کمایا۔

  4. مودی حکومت نے سال 2018 میں ’کسان سمان ندھی‘ کے نام پر ایک اور چھلاوا کسانوں کے ساتھ کیا۔ ملک بھر میں 14 کروڑ 65 لاکھ کسان ہیں مگر مودی حکومت نے تقریباً 6 کروڑ کسانوں کو 6 ہزار روپے سالانہ ملنے والی کسان سمان ندھی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف چھ سالوں میں ڈیزل کی قیمت کو 55.49 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 88.65 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ کھاد، جراثیم کش، ٹریکٹر اور دیگر کھیتی میں کام آنے والے ساز و سامان میں بھی بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے۔

  5. ’پردھان منتری آئے سنرکشن یوجنا‘ کے تحت بازار سے کسانوں کو فصلوں کے دام کم ملنے کی صورت میں حکومت خسارے کے برابر روپے براہ راست کھاتوں میں ڈالتی تھی، اس منصوبہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

  6. پارلیمنٹ سے زراعت مخالف تین سیاہ قوانین منظور کرا لئے گئے جن سے صرف اور صرف سرمایہ داروں کو فائدہ ہوگا۔

  7. لاگت اور قیمت کمیشن کی طرف سے رپورٹ کے ذریعے انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت سپورٹ پرائس پر دال خرید کر ایسے وقت میں بازار میں اتار دیتی ہے جب کسانوں کی فصل آنے والی ہوتی ہے۔ یعنی سرمایہ داروں کا فائدہ پہنچانے کے لئے حکومت بازار میں قیمتوں کو کم کرا دیتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔