مودی حکومت کو ملک کے غریب عوام کی کوئی فکر نہیں: ابھشیک بنرجی

رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ”اس (مودی) حکومت کو اندازہ نہیں ہے کہ کتنی جانیں ضائع ہوئیں، کتنے افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ غیر انسانی حکومت کب ختم ہوگی؟“

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

یو این آئی

کولکاتا: مرکزی حکومت کے ذریعہ لاک ڈاؤن کے درمیان اپنے گھر کی طرف کوچ کررہے غیر مقیم مزدوروں کی موت کے اعداد وشمار نہیں ہونے کا عذر پیش کیے جانے پر ترنمول کانگریس یوتھ ونگ کے سربراہ اور ممبر پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو غریبوں کی فکر نہیں ہے۔

کورنا بحران کے درمیان پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ اجلاس میں ابھیشیک بنرجی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے پارلیمنٹ میں غیر مقیم مزدورں سے متعلق وزیر محنت کے ریمارکس پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس حکومت کو اندازہ نہیں ہے کہ کتنی جانیں ضائع ہوئیں، کتنے افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ غیر انسانی حکومت کب ختم ہوگی؟“

اچانک لاک ڈاؤن نافذ ہونے کی وجہ سے لاکھوں غیر مقیم مزدروں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ملازمت ختم ہونے کے بعد لاکھوں افراد پیدل ہی اپنے گھر کی طرف چل دئیے۔ اس کی وجہ سے درجنوں افراد راستے میں موت کے شکار ہوگئے ہیں بعد میں مرکزی وزیر ریلوے نے”شرمک اسپیشل“ ٹرین چلائی۔ ٹرین میں گھر واپسی کے دوران بھی مزدوروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ طویل سفر پر کھانا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ٹرین میں بیمار ہوگئے۔ گھر واپس ہونے تک بہت سے کارکن ٹرین میں جاں بحق ہوگئے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں ایک تحریری سوال میں حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن کے درمیان کتنے غیر مقیم مزدروں نے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، لاک ڈاؤن میں کتنے افراد ملازمت سے محروم ہوئے ہیں، کتنے ہلاک ہوئے ہیں اور مرکزی حکومت کے معاوضے کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ اس کے جواب میں، وزیرمحنت نے کہا کہ اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں کہ کتنے افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس صورت میں معاوضے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ملازمت سے محروم ہونے والوں کی صحیح تعداد بھی مرکزی حکومت کے پاس نہیں ہے۔

ادھر، عالمی بینک نے اپریل میں کہا تھا کہ لاک ڈاؤن میں چار کروڑ غیر مقیم مزدوروں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ صرف اپریل میں ہی 12 کروڑ 15 لاکھ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سب سے زیادہ نقصان ہاکرز، یومیہ مزدور اور چھوٹے تاجروں کو اٹھانا پڑا ہے۔ ہندوستانی معیشت کے ماہرین کے مطابق ملک میں 35 فیصد آبادی کی معیشت ہاکر، یومیہ مزدوری اور چھوٹی تجارت پر مبنی ہے۔ اور یہ طبقہ بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

next