مودی حکومت نے رسوئی گیس کی قیمت میں اضافہ کر کے غریب کی کمر توڑ دی: کانگریس

کانگریس ترجمان سپریہ سرینیت نے کہا کہ سلنڈروں کی قیمت کم کرنے کے بجائے حکومت نے اس کی قیمت 25 روپے بڑھا کر زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔

ایل پی جی سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس
ایل پی جی سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ حکومت مسلسل ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے لوگوں کی کمر ٹوٹ رہی ہے اور اسے اب غیر سنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے قیمت کم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔

کانگریس کی ترجمان سوپریہ سرینیت نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سلنڈروں کی قیمت کم کرنے کے بجائے حکومت نے اس کی قیمت 25 روپے بڑھا کر زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت عوام عالمی وباء سے مسائل کا شکار ہیں اور ایسی صورتحال میں ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کرنا حکومت کی غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔


کانگریس ترجمان نے کہا کہ اس وقت ملک کو عالمی وباء کے ساتھ ساتھ بہت بڑا معاشی بحران کا بھی سامنا ہے، ایسی صورتحال میں رسوئی سلنڈروں کی قیمتوں میں ہوئے اضافہ سے عوام پر ایک زبردست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بے روزگاری عروج پر ہے، لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے، جس کی وجہ سے کھانے پینے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس وقت، ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کرنا عوام کے ساتھ حکومت کے افسوسناک سلوک کی علامت ہے۔

سپریہ سرینیت نے بتایا کہ مارچ میں ایل پی جی کی قیمت فی ٹن 587 ڈالر تھی اور ہماری حکومت نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھا کر 804 روپے کر دیا تھا۔ اب قدرتی گیس کی قیمت 523 ڈالر فی ٹن تک آ گئی ہے، اس لئے اس کے حساب سے سلنڈر کی قیمت 552 روپے ہونی چاہیے ، لیکن حکومت نے اسے 25 روپے بڑھا کر 834 روپے کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو راحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔