’مودی حکومت نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا‘، پارلیمانی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوئے 29 دن گزرنے پر کانگریس کا طنز

جئے رام رمیش نے کہا کہ پارلیمنٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے اور اس کے سیشن کے اختتام کے درمیان اب 29 دن کا فرق ہو گیا ہے، جبکہ 2015 کے مانسون سیشن میں یہ فرق 28 دن کا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i

کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جئے رام رمیش نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے اور سیشن کے اختتام کے درمیان بڑھتے ہوئے وقفہ کو لے کر مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے 2015 میں قائم اپنے ہی ریکارڈ کو توڑتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کہا کہ پارلیمنٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے اور اس کے سیشن کے اختتام کے درمیان اب 29 دن کا فرق ہو گیا ہے، جبکہ 2015 کے مانسون سیشن میں یہ فرق 28 دن کا تھا۔ ان کے مطابق 2026 کے مانسون سیشن میں یہ وقفہ ہر روز بڑھتا جا رہا ہے اور فی الحال سیشن کے اختتام کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر پارلیمنٹ کے سیشن کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے اور سیشن کے اختتام کے درمیان صرف 3 سے 4 دن کا فرق ہوتا ہے۔


اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں اپنے شدید تکبر کے باعث مرکزی وزیر داخلہ کو خود کو اور اپنی حکومت کو ملنے والی زبردست شکست نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب مرکزی وزیر داخلہ آئینی ترمیمی بل کو لوک سبھا سے منظور کرانے کے لیے 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش میں ’داغدار طریقے‘ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 17 اپریل 2026 کو اس بل کے خلاف ووٹ دینے والی 3 سیاسی پارٹیوں میں مرکزی حکومت پہلے ہی پھوٹ ڈال چکی ہے، جبکہ بل کے خلاف ووٹ دینے والے دیگر اراکین کا رخ تبدیل کرانے کے لیے دھمکیوں، خوف زدہ کرنے اور لالچ دینے جیسے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے پاس بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے، لیکن ان کی شیخی، دھوکے اور بڑی بڑی باتیں انہیں اپنے سامنے صاف نظر آنے والی حقیقت کو تسلیم نہیں کرنے دے رہی ہیں۔

جئے رام رمیش نے مانسون اجلاس کے اختتام کا اعلان اب تک نہ کیے جانے پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا اختتام نہ کر کے خود ساختہ چانکیہ کو شاید لگتا ہے کہ وہ ’مائنڈ گیم‘ کھیل رہے ہیں اور نفسیاتی داؤ پیچ آزما رہے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق یہ محض حماقت ہے، کیونکہ حکومت جب چاہے اور جس مقصد کے لیے چاہے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صرف اس خیال سے سسپنس برقرار رکھے ہوئے ہے کہ اس سے اپوزیشن گھبرا جائے گی۔ حالانکہ یہ غلط فہمی ہے اور حکومت اسی غلط فہمی میں جیتی رہے گی۔


کانگریس جنرل سکریٹری نے مودی حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ حد بندی سے متعلق اپنی تجاویز پر بحث کرنے اور زیادہ سے زیادہ وسیع اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ بلانے سے کیوں انکار کر رہی ہے، جبکہ ملک کو اسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2026 کے وسط سے ہی سبھی اپوزیشن پارٹیاں مسلسل اس کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ہندوستانی جمہوریہ کی بنیاد کے لیے اتنے اہم معاملے پر حکومت کی جانب سے رازداری اور اس پورے معاملے کو پراسرار بنائے رکھنے کی کیا وجہ ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔