’مودی حکومت نے فلسطینیوں کو چھوڑ دیا!‘ کانگریس نے وزیر اعظم مودی کے دورۂ اسرائیل پر اٹھائے سوال

کانگریس لیڈر رمیش کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں (فلسطینیوں کو) چھوڑ دیا ہے، وہ یہ بھول گئی ہے کہ ہندوستان 18 نومبر 1988 کو فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس حکومت نے فلسطینیوں اور ان کے مفادات کو ترک کر دیا ہے۔ منگل کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے فلسطین کے تئیں ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے چند پہلے ممالک میں شامل تھا۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ  میں کہا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی اور بے گھر ہونے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ وہیں اسرائیل اور امریکہ ایران پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ پھر بھی وزیراعظم اپنے اس اچھے دوست نیتن یاہو کو گلے لگانے کے لیے کل اسرائیل کا سفر کر رہے ہیں جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ اسرائیل میں اپوزیشن وہاں کی پارلیمنٹ میں مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اپوزیشن اس بات پر احتجاج کر رہا ہے کیسے نیتن یاہو اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت فلسطینیوں کے مفادات سے اپنی وابستگی کے بارے میں مشکوک اور منافقانہ بیانات دیتی ہے۔

جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں (فلسطینیوں کو) چھوڑ دیا ہے، وہ یہ بھول گئی ہے کہ ہندوستان 18 نومبر 1988 کو فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا۔ خبروں کے مطابق مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل جائیں گے۔ اس دوران ان کا کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کرنے کا بھی پروگرام ہے۔ مودی اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔