دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے: مولانا ارشد مدنی

مایوسی، پسماندگی اور احساس کمتری سے باہر نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے، سینٹر کے قیام کا مقصد ذہین مگر غریب طلبا کو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیار کرنا ہے: مولانا ارشدمدنی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دینی و دنیاوی دونوں تعلیم کے حصول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے دونوں تعلیم کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات مولانا حسین احمد مدنی چیریٹبل ٹرسٹ دیوبند اور ہند گرو اکیڈمی دہلی کے باہمی تعاون سے آئی آئی ٹی، این ای ای ٹی، جے ای ای کی تیاری کے لئے کوچنگ سینٹر کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ اس سینٹر میں پانچ سو طلبہ کی گنجائش ہے جس میں سو غریب مگر صلاحیت مند بچوں کو مفت کوچنگ فراہم کی جائے گی، جس میں ہندو بچے بھی شامل ہوں گے۔ یہ سینٹر دہلی اور دیوبند دونوں جگہ پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج جس طرح مسلم قوم کو عالم دین، مفتی، قاضی کی ضرورت ہے اسی طرح، ڈاکٹرس، انجینئرس، وکیل، سول سرونٹ، سائنس داں، اساتذہ اور پروفیسرس وغیرہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلا کو پرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مدرسے کے لوگ ہیں، ایک کے بدلے دسیوں مدرسے قائم کرسکتے ہیں لیکن عصری ادارے ہمارے لئے قائم کرنا مشکل تھا لیکن ہم نے احباب کے تعاون سے اس سمت میں قدم بڑھایا اور آج دیوبند میں اسکول، بی ایڈ کالج، ڈگری کالج اور لڑکیوں کے لئے شہر کے وسط میں ایک اسکول چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ ہر میدان میں اسی وقت اپنا قدم جما سکتے ہیں جب ان کی اسکول کی تعلیم معیاری ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسکول کی تعلیم معیاری ہوگی تو وہ کہیں بھی داخلہ لے سکتے ہیں اور کہیں سے بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔


مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد جمعیۃ علمائے ہند نے دینی ادارے قائم کرنے پر زیادہ توجہ دی کیوں کہ اس وقت دین کی حفاظت کرنا ضروری تھا اور دین کی حفاظت دینی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء نے کبھی بھی نہیں کہا کہ اسکول، کالج نہ کھولے جائیں بلکہ اہل ثروت لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دنیاوی ادارے قائم کریں، جس میں مسلمان بچے عصری تعلیم حاصل کرسکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسی تعلیم پر زور دیا کہ جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنوارے اور اس کی افادیت صرف دنیا تک محدود نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علمائے ہند نے ہمیشہ ضرورت کے حساب سے کام کیا ہے اور مسلم قوم کو جس کی ضرورت پڑی اسی ضرورت کے تحت کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فسادات ہوئے جس کے شکار مسلمان بنے، جمعیۃ علمائے ہند نے راحت رسانی اور بازآبادکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مسلمانوں کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ انہیں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہم پہنچ سکتے تھے وہاں پہنچیں اور راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ہم نے راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کام میں کبھی مذہب نہیں دیکھا بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقے دینی تعلیم کی روشنی سے دور تھے، دیوبند کے فضلاء نے جہالت کی تاریکی کو دور کرتے ہوئے دین کی روشنی پھیلائی اور اس وقت پورے ملک میں مدارس کے جال بچھے ہوئے ہیں۔


مولانا ارشد مدنی نے اس اعتراف کے ساتھ کہ جمعیۃ علمائے ہند سارے کام نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کے پاس سارے کام کرنے کے وسائل ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم نے مسلم بچوں کو دینی تعلیم سے بہرہ ور اور مسابقتی میدان میں ان کی کامیابی کے لئے ہم نے کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم نے آئی آئی ٹی۔جے ای ای اور این ای ای ٹی کی تیاری کے لئے کوچنگ کی شروعات کی ہے لیکن بہت جلد سول سروس کی تیاری کے لئے بھی اکیڈمی کی بنیاد ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نشانہ شہر کے ساتھ دیہی علاقوں کے بچے ہیں جو صلاحیت مند ہوتے ہیں لیکن وسائل سے محروم ہونے کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پاتے اور رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے مسابقتی امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں۔ ایسے بچوں پر ہماری توجہ مرکوز رہے گی اور اس میں صلاحیت مند ہندو بچے بھی شامل ہیں۔

ہند گرو اکیڈمی کے سربراہ نور نواز خاں نے کوچنگ سینٹر کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم اس تعلیمی ادارہ کے ذریعہ گاؤں گاؤں تک پہنچیں گے اور بعد میں اس میں آئی آئی ٹی۔جے ای ای اور این ای ای ٹی کی تیاری کے ساتھ ایس ایس سی کی تیاری بھی کرائی جائے گی۔ واضح رہے کہ جمعیۃ علمائے ہند نے یہ پروگرام مدنی 100 کے نام سے شروع کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔