مشن 2024: اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں مودی حکومت کے خلاف منصوبہ بندی، سونیا، ممتا، پوار سمیت سبھی اتحاد کے لیے پرعزم!

سونیا گاندھی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں این سی پی سربراہ شرد پوار، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت 19 اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران موجود تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

20 اگست کی شام 19 اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کے درمیان ہوئی ورچوئل میٹنگ نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو لے کر کئی باتیں صاف کر دیں۔ اس بات پر سبھی اپوزیشن پارٹیاں متفق نظر آئیں کہ عوام مخالف پالیسیاں نافذ کرنے والی مودی حکومت کے خلاف سبھی کو متحد ہو کر لوک سبھا الیکشن لڑنا ہوگا تبھی بی جے پی کے جھوٹ اور پروپیگنڈوں پر مبنی حکومت سے عوام کو نجات مل سکے گی۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں نہ صرف 2024 لوک سبھا انتخابات کے تعلق سے منظم پالیسی تیار کیے جانے پر غور و خوض ہوا، بلکہ کئی عوامی مسائل کے تعلق سے بھی گفت و شنید ہوئی۔

سب سے پہلے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سبھی اپوزیشن پارٹی لیڈران سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ملک کے مفاد میں ضروری ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ سبھی کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں، لیکن اس سے اوپر اٹھ کر 2024 میں ملک کو آئین پر اعتماد کرنے والی حکومت دینی ہوگی۔ سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں دکھائی دینے والے اپوزیشن اتحاد کا تذکرہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاس میں بھی اپوزیشن پارٹیاں اسی طرح متحد رہیں گی اور پارلیمنٹ سے باہر جو سیاسی لڑائی لڑی جانی ہے، اس میں بھی ساتھ رہیں گی۔


میٹنگ میں این سی پی سربراہ شرد پوار، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے سربراہ اسٹالن، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور جے ایم ایم کے کارگزار صدر ہیمنت سورین جیسے بڑے لیڈر شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں میٹنگ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سینئر کانگریس لیڈر اے کے انٹونی بھی شامل ہوئے۔ اس ورچوئل میٹنگ میں شامل ہونے والے دیگر بڑے چہروں میں سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری، سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجہ، پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس سربراہ فاروق عبداللہ، اے آئی یو ڈی ایف سربراہ بدرالدین اجمل، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو، آر ایل ڈی سربراہ جینت چودھری، لوک تانترک جنتا دل سربراہ شرد یادو وغیرہ نے شرکت کی۔

اس درمیان مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ پیگاسس جاسوسی واقعہ، زرعی قوانین، مہنگائی جیسے عوام سے جڑے ایشوز پر حکومت کے ذریعہ بحث نہ کرانے کی وجہ سے مانسون اجلاس پوری طرح سے برباد ہو گیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ کیا گیا اتحاد کا مظاہرہ مانسون اجلاس کی سب سے اہم بات رہی۔ میٹنگ کے دوران ممتا بنرجی نے مشن 2024 کے تعلق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ’کور گروپ‘ بنانے کی ضرورت ہے اور اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں ان پارٹیوں کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے جو کانگریس کے ساتھ نہیں ہیں۔ ممتا نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’لیڈر کون ہے بھول جائیے، عوام قیادت کرے گی۔ سبھی اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ لانا ہوگا۔‘‘ این سی پی سربراہ شرد پوار نے اپنی بات سبھی اپوزیشن پارٹی لیڈران کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ ملک کے جمہوری اصولوں کو بچانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، انھیں ایک ساتھ آنا چاہیے۔ ایک طے مدتی پروگرام کو مجموعی طور سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘


میٹنگ کے بعد سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا جس میں مودی حکومت سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ سب کو کورونا کا ٹیکہ دستیاب کرائے، کورونا سے ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ دے، انکم ٹیکس کی حد سے باہر کی ہر فیملی کو فی ماہ 7500 روپے نقد ٹرانسفر کرے اور ضروت مندوں کو مفت راشن دے۔ علاوہ ازیں پٹرول، ڈیزل، گیس اور خوردنی تیل پر بڑھی ہوئی ایکسائز ڈیوٹی واپس لینے کا مطالبہ بھی مرکزی حکومت سے کیا گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت سے زرعی قوانین واپس لینے اور ایم ایس پی سے متعلق کسانوں کا مطالبہ ماننے کی بھی گزارش کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔