میر اطہر: ایک کشمیری نوجوان جس نے دنیا کے سامنے پیش کی بہترین مثال

میر اطہر ایک آسودہ حال گھرانے کے چشم و چراغ ہیں لیکن انہوں نے سرکاری نوکری پر اپنے کاروبار کو شروع کرنے پر ترجیح دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: سرکاری نوکری سے صرف اپنے عیال کی پرورش و پرداخت کی جاسکتی ہے جبکہ اپنا کاروبار شروع کرنے سے کئی لوگوں کے اہل و عیال کی کفالت کی جاسکتی ہے۔ یہ الفاظ وسطی کشمیر کے چرار شریف علاقے سے تعلق رکھنے والے میر اطہر کے ہیں، جنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے سال 2018 میں آئی ٹی میں پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد ورمی کمپوسٹ یعنی قدرتی کھاد بنانے کا یونٹ قائم کیا ہے۔

میر اطہر ایک آسودہ حال گھرانے کے چشم و چراغ ہیں لیکن انہوں نے سرکاری نوکری پر اپنے کاروبار کو شروع کرنے پر ترجیح دی ہے۔ انہوں نے یو این آئی اردو کے ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کے شوق و سفر کے متعلق سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’کشمیر یونیورسٹی سے سال 2018 میں ایم ایس سی آئی ٹی کرنے کے فوراً بعد میں نے ورمی کمپوسٹ کا یونٹ قائم کیا اور اور اپنا کام شروع کیا کیونکہ مجھے نوکری سے زیادہ اپنا کاروبار قائم کرنے کا ہی شوق تھا‘۔ ان کا ماننا ہے کہ ’سرکاری نوکری کرنے سے ہم صرف اپنا روزگار حاصل کرسکتے ہیں اور اپنے عیال کو پال سکتے ہیں لیکن اپنا کاروبار شروع کرنے سے ہم دوسروں کو بھی روزگار فرم کرسکتے ہیں جس سے وہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کرسکتے ہیں‘۔


موصوف نوجوان نے کہا کہ میرے یونٹ میں فی الوقت 7 افراد کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس وقت میرے یونٹ میں سات افراد کام کر رہے ہیں لیکن بالواسطہ طور پر اس کے ساتھ کئی لوگ جڑے ہوئے ہیں اور اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سال 2019 میں نامساعد حالات اور بعد ازاں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران مجھے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور میں نے اپنی والدہ جو محکمہ تعلیم میں لیکچرر کی حیثیت سے تعینات ہیں، سے قرضہ لے کر اپنے ملازموں کی تنخواہیں ادا کرنا پڑی‘۔

میر اطہر نے کہا کہ ورمی کمپوسٹ کا یونٹ قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یونٹ قائم کیا ہے اور میں اچھی طرح سے اپنی روزی روٹی کما رہا ہوں اور اس کاروبار سے کافی مطمئن ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری اور محکمہ باغبانی اس میں کافی مدد فراہم کرتے ہیں۔


میر اطہر نے وادی کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے سرکاری نوکریوں کے پیچھے رہنے کے بجائے اپنے اپنے تجارتی یونٹ قائم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری نوکری کرنے سے ہم محدود رہتے ہیں جبکہ اپنا کاروبار کرکے ہم آزاد ہیں کسی بھی وقت کہیں بھی جاسکتے ہیں اور اپنے عیال کے ساتھ ساتھ دوسرے ضرورت مند لوگوں کے گھروں کے چولھے جلنے کی سبیل بھی کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں روز گار کے وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں خود اپنا روزگار حاصل کرنے کے اتنے وسائل ہیں کہ کوئی بھی بے روزگار نہیں رہ سکتا ہے لیکن اس کے لئے ہمیں کچھ غیر ضروری بندشوں جیسے احساس کمتری وغیرہ سے باہر نکلنا ہوگا۔

میر اطہر نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں میں صلاحیتوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے وہ اپنے ابا واجداد کے پیشوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرکے بہترین کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو خود اپنا روزگار حاصل کرنے کے لئے مزید نئی اسکیموں کو متعارف کرے اور اپنے تجارتی یونٹ قائم کرنے میں ان کی بھر پور مدد اور موثر رہنمائی کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔