کشمیر: ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے بعد ماحول کشیدہ، کرفیو نافذ، انٹرنیٹ اور ریل خدمات معطل

وادی کشمیر میں ’انصار غزوۃ الہند‘ نامی ملی ٹینٹ تنظیم کے بانی اور سربراہ ذاکر رشید بٹ عرف ذکر موسیٰ کی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاکت کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں ’انصار غزوۃ الہند‘ نامی ملی ٹینٹ تنظیم کے بانی اور سربراہ ذاکر رشید بٹ عرف ذکر موسیٰ کی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاکت کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

انتظامیہ نے صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کے علاوہ کئی ایک علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ تعلیموں اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ریل حکام نے سول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزری پر ریل خدمات معطل کردی ہیں۔ القاعدہ سے منسلک 'انصار غزوۃ الہند' کے بانی اور سربراہ ذاکر موسیٰ کو فورسز نے گزشتہ شام جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ڈاڈسرہ ترال میں ہلاک کیا۔

ریاستی پولیس کی طرف سے ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا 'ترال انکوائنٹر اپڈیٹ۔ ایک جنگجو مارا گیا۔ اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ شناخت اور تنظیمی وابستگی معلوم کرنے کا عمل جاری ہے۔ تلاشی آپریشن جاری ہے'۔تاہم فوج نے ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ فوج کی چنار کور نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا 'ہم کشمیر کو جنگجویت سے پاک بنانے کی جانب گامزن ہیں۔ ترال میں جنگجو لیڈرشپ کو نشانہ بنایا گیا۔ کالج ڈراپ آوٹ اور انصار غزوۃ الہند کے لیڈر ذاکر موسیٰ کو ہلاک کیا گیا'۔

ذرائع نے بتایا کہ ذاکر موسیٰ کی لاش آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے ورثاء کے حوالے کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا 'طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد مہلوک جنگجو کی لاش تدفین کے لئے ورثاء کے حوالے کی گئی'۔ ایک رپورٹ کے مطابق تصادم کی جگہ سے ایک اے کے 47 اور ایک راکٹ لانچر برآمد ہوا ہے۔ تصادم کے دوران ایک رہائشی مکان تباہ ہوگیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ کے ڈاڈسرہ ترال میں جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فورسز اور ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے مذکورہ علاقہ کو جمعرات کی شام محاصرے میں لیا اور مشتبہ جگہ کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا۔

انہوں نے بتایا 'ذاکر موسیٰ کو خودسپردگی کی پیشکش کی گئی لیکن اس نے یہ پیشکش ٹھکراتے ہوئے یو بی جی ایل گرینیڈ داغے۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے تصادم میں ذاکر موسیٰ مارا گیا'۔بتادیں کہ ضلع پلوامہ کے نور پورہ ترال سے تعلق رکھنے والے ذاکر موسیٰ نے سنہ 2013 ء میں انجینئرنگ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ حزب المجاہدین کے سابق جنگجو برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ دونوں نے ملکر پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو جنگجوئوں کی صفوں میں ریکروٹ کیا تھا۔

تاہم 12 مئی 2017 ء کو ذاکر موسیٰ نے ایک مبینہ آڈیو بیان جاری کیا جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ 'وہ کشمیر میں شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہا ہے اور جو کوئی علاحدگی پسند لیڈر اس راہ میں کانٹا بنے گا ، اُس کو لال چوک میں لٹکادیا جائے گا'۔ تاہم اس بیان پر چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد ذاکر نے 13 مئی کو ایک اور مبینہ آڈیو بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے 'لال چوک میں لٹکانے' کی بات کسی بھی علاحدگی پسند لیڈر کے لئے نہیں کہی تھی۔

اس بیچ جب حزب المجاہدین نے ذاکر موسیٰ کے مبینہ بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تو ذاکر نے حزب المجاہدین سے ہمیشہ کے لئے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اپنی تنظیم 'انصار غزوۃ الہند' بناڈالی۔ کشمیر انتظامیہ نے ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے خلاف ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے جنوبی کشمیر کے مختلف حصوں اور سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی گزشتہ شام وادی کشمیر کے کئی علاقوں خاص طور پر جنوبی کشمیر اور سری نگر میں شدید شبانہ احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران سیکورٹی فورسز نے پتھرائو کے مرتکب احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے وادی کے مختلف علاقوں خاص طور پر جنوبی کشمیر اور سری نگر میں سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔

ذاکر موسیٰ کی ہلاکت وادی میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے۔ کسی بھی علاحدگی پسند جماعت یا جنگجو تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی۔ سری نگر میں جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ (ایس آر ٹی سی) کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب رہیں۔

سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ شہر میں بیشتر پیٹرول پمپ بند دیکھے گئے۔ ایسی ہی اطلاعات وادی کے دوسرے علاقوں سے بھی موصول ہوئیں۔ انتظامیہ نے صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

Published: 24 May 2019, 2:10 PM