کشمیر: میاں عبد القیوم کی رہائی جمعرات کو ممکن

تشار مہتا کی دلیلوں کی بنیاد پر عدالت نے ان کی رہائی کی اجازت دے دی۔ حالانکہ میاں عبد القیوم سے کہا گیا کہ وہ سات اگست تک دہلی میں رہیں گے، کشمیر نہیں جائیں گے اور کوئی بیان بھی جاری نہیں کریں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: جموں و کشمیر انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو بدھ کے روز آگاہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر میاں عبد القیوم کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ اس درمیان عرضی گزار کو کل ہی رہا کرنے کی ان کے وکیل کی درخواست پر ریاستی انتظامیہ نے ہاں کر لی ہے۔

جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے پیش سالسٹر جنرل تُشار مہتا نے جسٹس سنسجے کشن کول کی صدارت والی بنچ کو بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست کی انتظامیہ نے میاں عبد القیوم کو فوراً رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ تشار مہتا کی دلیلوں کی بنیاد پر عدالت نے ان کی رہائی کی اجازت دے دی۔ حالانکہ انہوں نے کہا ک میاں عبد القیوم سات اگست تک دہلی میں رہیں گے، کشمیر نہیں جائیں گے اور کوئی بیان بھی جاری نہیں کریں گے۔

میاں عبد القیوم کی جانب سے پیش سینیئر ایڈووکیٹ دشینت دوے نے گزارش کی ہے کہ اگر ہو سکے تو ان کے مؤکل کو کل ہی رہا کر دیا جائے تاکہ دہلی میں منتظر اہل خانہ ان کا خیر مقدم کر سکیں۔ غور طلب ہے کہ عدالت نے گزشتہ پیر کو تشار مہتا کو ریاستی انتظامیہ سے یہ ہدایت لے کر آنے کو کہا تھا کہ کیا میاں عبد القیوم کو چھ اگست سے قبل رہا کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی حکومت نے گزشتہ پیر کو سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر کو چھ اگست کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد عدالت نے تشار مہتا سے ہدایت لے کر آنے کو کہا تھا۔ گزشتہ برس پانچ اگست کو جموں و کشمیر سے متعلق آئین کی دفعہ 370 کی زیادہ تر توضیعات اور آرٹیکل 35 اے کو رد کیے جانے کے بعد سات اگست کو میاں عبد القیوم کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس وقت سے وہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ آئندہ چھ اگست کو ان کی قید بے گناہی کو ایک برس ہو جائیں گے۔

next