’بندوق یا پتھر اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا‘، کشمیری نوجوانوں کو محبوبہ مفتی کی تاکید

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’کشمیر کے لوگ خاموش ضرور ہیں لیکن یہ خاموشی امن کی نشانی نہیں ہے، یہاں ہر طرف دہشت ہے، کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے کہ کہیں کوئی سن نہ لے۔‘‘

محبوبہ مفتی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

شوپیاں: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے سے پرہیز کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق یا پتھر اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سال 2016 میں (برہان وانی کی ہلاکت کے بعد) پتھر اٹھائے جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں پی ڈی پی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔

محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہاں کے لوگ خاموش ضرور ہیں لیکن یہ خاموشی امن کی نشانی نہیں ہے۔ یہاں ہر طرف دہشت ہے۔ کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے کہ کہیں کوئی سن نہ لے۔‘‘ پی ڈی پی صدر نے مزید کہا کہ مہلوک جنگجو کمانڈر برہان وانی کے پرنسپل والد کا یوم آزادی کے موقع پر قومی ترنگا لہرانا بی جے پی کے لئے دفعہ 370 کے خاتمے کا ماحصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں یہی ڈھنڈھورا پیٹا جا رہا ہے کہ ہم نے برہان وانی کے والد سے جھنڈا لہروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں نے اس وقت بھارت کا جھنڈا لہرایا ہے جب ملک کی باقی ریاستیں مذہب کی بنیاد پر بھارت یا پاکستان کے ساتھ جا رہی تھیں۔


محبوبہ مفتی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس ملک کے ساتھ کوئی شکایت نہیں ہے جس کی حکومت ملک کے وسائل جیسے ریلوے، ایئرپورٹ، سڑکوں، پاور پروجیکٹوں کو بیچ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق میں کانگریس کا بہت بڑا رول ہے۔ جموں و کشمیر نے گاندھی جی، نہرو جی اور اندرا جی کے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا اس ملک کے ساتھ الحاق کیا تھا جو ایک سیکولر ملک تھا۔‘‘ موصوفہ نے کہا کہ لیکن اس بھائی چارے کو ختم کیا گیا اور اس ماحول کو خراب کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے جو 70 برسوں کے دوران حاصل کیا تھا اس کو بی جے پی نے سات برسوں میں ہی ختم کر دیا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کی پاکستان کے ساتھ بات چل رہی ہے لیکن جب میں بات چیت کرنے کو کہتی ہوں تو ان کو غصہ آتا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’الیکشن مہم کے دوران یو پی کے وزیر اعلیٰ کشمیر کے پلاٹ بیچ رہے تھے جبکہ ریاست میں غربت عروج پر ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہاں دس لاکھ فوج موجود ہے اور پلاٹ بیچنے کے لئے مزید دس لاکھ فوجیوں کو لائیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔