’جماعت اسلامی‘ پر این آئی اے کی چھاپہ ماری سے محبوبہ مفتی ناراض

جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے اقدام کی وادی کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں نے مذمت کی تھی۔ جماعت نے پانچ سالہ پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

جماعت اسلامی کے دفتر پر چھاپہ مارتے این آئی اے کے اہلکار، تصویر آئی اے این ایس
جماعت اسلامی کے دفتر پر چھاپہ مارتے این آئی اے کے اہلکار، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر این آئی اے کے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت ہند کی طرف سے اپنے ہی نام نہاد ’اٹوٹ انگ‘ کے خلاف جنگ چھیڑنے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جابرانہ اقدام ہمیشہ ضرر رساں ہی ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نظریے کا مقابلہ کرنے کے لئے بہتر نظریے سے لڑنے کی بجائے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ موصوفہ نے یہ باتیں پیر کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کی ہیں۔

محبوبہ مفتی نے ان چھاپوں کے ردعمل میں اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’جماعت پر این آئی اے کے چھاپے حکومت ہند کے اپنے ہی نام نہاد 'اٹوٹ انگ' کے خلاف جنگ چھیڑنے کی علامت ہے ایک نظریے کے خلاف ایک بہتر نظریے سے لڑنے کی بجائے اس کو طاقت کے بل پر دبایا جا رہا ہے۔‘‘


ان کا اپنے دوسرے ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ایسے جابرانہ اقدام آخر کار ضرر رساں ہی ثابت ہوں گے۔ ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور ملک کے درمیان خیلج ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ این آئی اے نے اتوار کے روز کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے 14 اضلاع میں 56 مقامات پر چھاپے مارے۔

مرکزی حکومت نے 2019 میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پانچ سالہ پابندی لگا دی۔ اس پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے اقدام کی وادی کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں نے مذمت کی تھی۔ جماعت نے پانچ سالہ پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔