ستیہ پال ملک کا مودی حکومت پر حملہ، ’کتیا کی موت پر بھی تعزیت کرتے ہیں! 250 کسانوں کی موت پر کوئی نہیں بولا‘

ستیہ پال ملک نے کہا کہ کتیا بھی مر جاتی ہے تو اس کے لئے ہمارے لیڈران تعزیتی پیغام جاری کرتے ہیں، لیکن 250 کسان مر گئے، کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، یہ سب میری روح کے لئے تکلیف دہ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کسان تحریک کے حوالہ سے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ ستیہ پال ملک نے کسانوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا، کہ ’’کتیا بھی مر جاتی ہے تو اس کے لئے ہمارے لیڈران تعزیتی پیغام جاری کرتے ہیں، لیکن 250 کسان مر گئے، کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، یہ سب میری روح کے لئے تکلیف دہ ہے۔‘‘

ہندی روزنامہ ’جن ستا‘ میں شائع خبر کے مطابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ کسان تحریک میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، حالانکہ اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کا ہے، اگر اس کو قانونی جامہ پہنا دیا جائے تو یہ معاملہ آسانی سے حل ہو جائے گا۔ ملک بھر کے کسانوں کے درمیان یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں اسے حل ہونا چاہیے۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ ’’میں آئینی منصب پر فائز ہوں، بچولیا بن کر کام نہیں کر سکتا۔‘‘


انہوں نے کہا کہ ’’میں صرف کسان لیڈران اور حکومت کے نمائندگان کو صرف صلاح دے سکتا ہوں، میرا صرف اتنا ہی کردار ہے۔‘‘ کسان تحریک پر بات کرتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا کہ کسانوں کو واجب قیمت نہ ملنے کا مسئلہ آج کا نہیں ہے بلکہ انگریزوں کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔

ستیہ پال ملک نے کہا کہ برطانوی حکومت کے دوران وزیر رہے چھوٹو رام نے وائسرائے کو گندم فراہم کرنے سے منع کر دیا تھا۔ انہون نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران وائسرائے وزیر چھوٹو رام سے ملے اور اناج کا مطالبہ کیا، چھوٹو رام نے کہا کہ اناج کس قیمت پر دینا ہے، یہ میں طے کروں گا۔


وائسرائے نے جواب میں چھوٹو رام سے کہا کہ آپ کو گندم ہماری مرضی کے مطابق قیمت پر فراہم کرنا پڑے گا، ورنہ میں لشکر کشی کر کے جبراً حاصل کر لوں گا۔ اس پر چھوٹو رام نے کہا کہ ’’میں کسانوں سے کہہ دوں گا کہ کھڑی فصل میں آگ لگا دیں، لیکن وائسرائے کو ہرگز کم قیمت پر گندم فراہم نہ کریں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔