مہاراشٹر سیاسی بحران سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کی بڑی بنچ کے پاس کیا جائے گا منتقل، گورنر کو لگائی گئی پھٹکار

معاملہ لارجر بنچ کو منتقل کرتے ہوئے آئینی بنچ نے سخت ریمارکس دیئے کہ اسپیکر کو دو دھڑوں کی تشکیل کا علم ہے۔ بھرت گوگاوالے کو چیف وہپ بنانے کا اسپیکر کا فیصلہ غلط تھا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی آئینی بنچ مہاراشٹر کے سیاسی بحران کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، لہذا اس معاملہ کو 7 ججوں کی بڑی بنچ کے سپرد کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کے دھڑے کی طرف سے دائر عرضیوں پر سنایا گیا ہے۔ سی جے آئی نے کہا، نبام ربیا کیس میں اٹھائے گئے سوال کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنا چاہئے، کیونکہ اس میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔

معاملہ لارجر بنچ کو منتقل کرتے ہوئے آئینی بنچ نے سخت ریمارکس دیئے کہ اسپیکر کو دو دھڑوں کی تشکیل کا علم ہے۔ بھرت گوگاوالے کو چیف وہپ بنانے کا اسپیکر کا فیصلہ غلط تھا۔ اسپیکر کو تحقیقات کر کے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ اسپیکر کو صرف پارٹی وہپ کو تسلیم کرنا چاہئے، انہوں نے صحیح وہپ کا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی۔ ایسے مسائل جیسے کہ کیا اسپیکر کو ہٹانے کا نوٹس نااہلی کے نوٹس جاری کرنے کے اسپیکر کے اختیارات کو محدود کر دے گا؟ اس کی جانچ بڑی بنچ کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسری جانب گورنر سے متعلق سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ گورنر وہ نہ کریں جس کا حق آئین نے نہیں دیا۔ اگر حکومت اور اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر بحث کو ملتوی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو گورنر فیصلہ لے سکتے ہیں لیکن اس معاملے میں ارکان اسمبلی نے خط میں یہ نہیں کہا کہ وہ ایم وی اے حکومت کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ صرف اپنی پارٹی کی قیادت پر سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی فریق میں عدم اطمینان فلور ٹیسٹ کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔ گورنر کو جو بھی تجاویز موصول ہوئیں وہ واضح نہیں تھیں۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ ناراض ارکان اسمبلی نئی پارٹی بنا رہے ہیں یا کہیں ضم ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ وہ نااہلی کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ اسپیکر کو اس معاملے میں جلد فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پارٹی میں پھوٹ نااہلی کی کارروائی سے بچنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ ادھو کو دوبارہ بحال نہیں کر سکتے۔


خیال رہے کہ گزشتہ سال ایکناتھ شندے کے دھڑے کی بغاوت کے بعد شیوسینا دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی۔ ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد اس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے شندے کو حکومت بنانے کے لیے بلایا تھا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے 16 ارکان اسمبلی کی رکنیت کے جواز کو چیلنج کیا تھا، جس پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔