بڑے پیمانے پر ویکسین اور ادویات ایکسپورٹ کی گئیں، ملک کو ترجیح کیوں نہیں دی گئی! پرینکا گاندھی کا مودی حکومت پر حملہ

پرینکا گاندھی نے پوچھا کہ ادویات اور ویکسین فراہم کرنے میں ملک کو کیوں ترجیح نہیں دی گئی؟ انہوں نے کہا کہ لوگ ادویات، آکسیجن اور بیڈ کے لئے رو رہے ہیں اور آپ بڑی بڑی ریلیوں میں جا کر ہنس رہے ہیں!

پرینکا گاندھی / بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
پرینکا گاندھی / بشکریہ ٹوئٹر / @ANI
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا کی موجودہ صورت حال کے حوالہ سے کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے حکومت کی ترجیحات اور نظام کی ناقص کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان سے بڑے پیانے پر کورونا ویکسین اور ضروری ادویات برآمد کی جاتی رہیں، جبکہ ملک میں ہزاروں لوگ ان کی کمی سے دو چار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت نے ہندوستانیوں کو ترجیح نہیں دی!

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’آج ملک بھر سے رپورٹ آ رہی ہیں کہ بیڈ، آکسیجن، ریمیڈیسیور اور وینٹی لیٹرز کی کمی ہے۔ کورونا پہلی اور دوسری لہر کے درمیان ہمارے پاس تیاری کرنے کے لئے کئی مہینے تھے۔ ہندوستان کی آکسیجن کی تخلیق کاری کی صلاحیت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، لیکن اس کی نقل و حمل کا کوئی نظام تیار نہیں کیا گیا۔‘‘


پرینکا گاندھی نے کہا، ’’کتنا عظیم سانحہ ہے کہ ملک میں آکسیجن موجود ہے لیکن اسے جہاں پہنچنا چاہیے وہاں پہنچ نہیں پا رہی۔ گزشتہ 6 مہینے میں 1.1 ملین ریمیڈیسور انجکشن کی برآمد کی گئی، آج ہمارے پاس انجکشن کی کمی ہے۔ حکومت نے جنوری سے لے کر مارچ تک کورنا ویکسین کی 6 کروڑ خوراکین ایکسپورٹ کر دیں اور 3-4 کروڑ ہندوستانیوں کو ویکسین دی گئی۔‘‘

پرینکا گاندھی نے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ادویات اور ویکسین فراہم کرنے میں ہندوستانیوں کو ترجیح نہیں دی گئی؟ انہوں نے کہا کہ لوگ ادویات، آکسیجن اور بیڈ کے لئے رو رہے ہیں اور آپ بڑی بڑی ریلیوں میں جا کر ہنس رہے ہیں!


پرینکا گاندھی نے مزید کہا، ’’منموہن سنگھ 10 سال کے لئے ملک کے وزیر اعظم رہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ کس طرح کی شخصیت ہیں۔ اگر وہ ایسے وقت میں کوئی مشورہ دے رہے ہیں جب ملک وبا کا سامنا کر رہا ہے تو ان کے مشورے کو اسی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے جس کے ساتھ انہیں پیش کیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہر جگہ سے ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں، سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ شمشان گھاٹوں پر اتنی بھیڑ کیوں جمع ہے، لوگ کوپن لے کر کھڑے ہیں! ہم اس صورت حال میں کیا سوچ رہے ہیں! جو حکومت کو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر رہی ہے۔ میں مثبت انداز میں کہہ رہی ہوں کہ خدارا کچھ کریں! جتنے وسائل بھی موجود ہیں انہیں کورونا کے خلاف استعمال کیجیے اگر مرکزی حکومت ارادہ کرے تو اب بھی آکسیجن کی فراہمی کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Apr 2021, 11:11 AM