بازار میں کہرام، روپیہ پہلی بار امریکی ڈالر کے مقابلے 93.80 سے تجاوز، مارکیٹ کھلتے ہی سینسیکس 1,556 پوائنٹس گرا
پیر کو اسٹاک مارکیٹ لال نشان پر کھلا۔ جمعہ کو 30 حصص والا بی ایس ای سینسیکس 325.72 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 74،532.96 پر بند ہوا، جبکہ این ایس ای نفٹی 112.35 پوائنٹس بڑھ کر 23،114.50 پر بند ہوا۔

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹس پیر کو زبردست گراوٹ کے ساتھ کھلا۔ ابتدائی کاروبار میں سینسیکس 1,555.62 پوائنٹس گر کر 72,977.34 پر آگیا۔ نفٹی 479.95 پوائنٹس گر کر22,634.55 پر پہنچ گیا۔ وہیں شروعاتی کاروبار میں روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے 33 پیسے گر کر 93.86 کی اب تک کی کم ترین سطح پر آگیا۔
بینکنگ اور مارکیٹ کے ماہر اجے بگا کے مطابق صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں میں واضح طور پر خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ اجے بگا نے کہا کہ ہفتہے کی شروعات انتہائی غیر مستحکم ماحول میں ہوئی ہے اور سرمایہ کار خطرے والے اثاثوں سے رقم نکال کر ڈالر کی شکل میں محفوظ کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو ایس منی مارکیٹ فنڈز کا اے یوایم8 ٹریلین ڈالر کے پار پہنچ چکا ہے جس اس سیفٹی فلائٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
بگا کے مطابق مارکیٹ میں کھلبلی کی سب سے بڑی وجہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دیا گیا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو پوری طرح کھولا جائے جو فی الحال جنگ سے پہلے کی صلاحیت کے صرف 5 فیصد پر چل رہا ہے، ورنہ ایران کے پاور گرڈ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اجناس کی منڈیوں میں بھاری اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے۔ برینٹ خام تیل 112 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 98.50 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی طلب میں کمی کے خدشے کے درمیان قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران سونے کو عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے لیکن اس بار اس کے برعکس رجحان دیکھا گیا۔ سونا تقریباً 2 فیصد گر کر 4,408 ڈالر فی اونس پر آگیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار مارجن کالز کی وجہ سے ایکوئٹی میں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے سونے کی منافع بخش پوزیشنوں کو آف لوڈ کر رہے ہیں۔
عالمی اشارے بے حد کمزور رہے اور ایشیائی منڈیوں میں زبردست فروخت دیکھنے کو ملی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر کر 51,280 پر آگیا۔ سنگاپور کا اسٹریٹس ٹائمز 2.20 فیصد گر کر 4,839 پر اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 3.41 فیصد گر کر 24,415 پر بند ہوا۔ تائیوان کا ویٹیڈ انڈیکس 2.65 فیصد گرا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 6 فیصد سے زیادہ گر گیا۔
اس سے پہلے جمعہ کو امریکی بازار بھی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ ڈاؤ جونز 0.96 فیصد گر کر 45,577 پربند ہوا، ایس اینڈپی 500 میں 1.51 فیصد کی گراوٹ رہی اور نیسڈیک 2 فیصد ٹوٹ کر 21,647 پر آ گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک مغربی ایشیا میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، تب تک عالمی منڈیوں میں عدم استحکام اور دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔