کسان تحریک: مارکنڈے کاٹجو نے پی ایم مودی کو لکھا خط، کہا ’26 جنوری کو ہو سکتا ہے ایک اور جلیاں والا باغ‘

کاٹجو نے پی ایم کو مودی لکھے خط میں کہا کہ ’’قوانین رد کر اپنی غلطی کی اصلاح کریں۔ ہر انسان غلط کر سکتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح سے آپ کو تعریف ملے گی۔ اس سے آپ کی شبیہ اور بھی اچھی ہو جائے گی۔‘‘

سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو
سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو
user

تنویر

متنازعہ زرعی قوانین کی واپسی کے لیے کسانوں کی تحریک جاری ہے اور 26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ کرنے کے لیے بھی کسان تنظیمیں پرعزم نظر آ رہی ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسی خبریں ضرور سامنے آئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ٹریکٹر پریڈ دہلی کی سرحدوں پر ہی نکلے گا، لیکن راکیش ٹکیت نے 14 جنوری کو ایک بیان میں صاف لفظوں میں کہا تھا کہ لال قلع سے انڈیا گیٹ تک جلوس نکالنے کا منصوبہ ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم جب امر جوان جیوتی پہنچیں گے تو وہاں پر ترنگا لہرائیں گے۔ یہ تاریخی نظارہ ہوگا جہاں پر ایک طرف جوان تو دوسری طرف کسان ہوں گے۔‘‘ گویا کہ ایک کشمکش کی سی صورت حال بنی ہوئی ہے اور کئی لوگ 26 جنوری کو کسی ناخوشگوار واقعہ کے اندیشہ سے خوف میں ہیں۔ اس تعلق سے سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں گزارش کی گئی ہے کہ حالات کو بہتر کرنے کے لیے تینوں زرعی قوانین واپس لے لیے جائیں۔

مارکنڈے کاٹجو نے یہ خط دہلی کی سرحدوں پر جاری کسان تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی کو لکھا ہے۔ خط میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ زرعی قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو دہلی میں تشدد پھیلنے کا اندیشہ ہے، اور ممکن ہے کہ 26 جنوری کو ایک دوسرا جلیاں والا باغ دیکھنے کو مل جائے۔ خط میں کاٹجو نے کسانوں کے ذریعہ سپریم کورٹ کی کمیٹی کو مسترد کرنے کا حوالہ بھی پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسی صورت میں فوری طور پر قانون واپس لے لینا چاہیے اور ساتھ ہی ہائی پاور کسان کمیشن تشکیل دی جانی چاہیے۔

کاٹجو نے یہ خط اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر بھی کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہندوستان میں کسان تحریک اور اس سے جڑے مسائل کافی آگے بڑھ گئے ہیں۔ کسان تنظیموں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر 4 رکنی کمیٹی کی سماعت میں حصہ لینے سے بھی منع کر دیا ہے اور واضح طور سے کہا ہے کہ جب تک ان 3 قوانین کو رد نہیں کیا جاتا ہے، تب تک مظاہرہ ختم نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی کے ایک رکن نےبھی خود کو کمیٹی سے الگ کر لیا۔‘‘

خط میں کاٹجو آگے لکھتے ہیں کہ ’’کثیر تعداد میں کسان دہلی کی سرحدوں پر جمے ہوئے ہیں، اور 26 جنوری کو دہلی میں داخل ہونے اور اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ یوم جمہوریہ پریڈ میں شامل ہونے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ حکومت کے ذریعہ انھیں اجازت نہیں دی جائے گی، اور نتیجہ کار پولس و نیم فوجی دستے لاٹھی چارج و گولی باری کریں گے۔ ممکنہ پولس کارروائی سے ایک اور جلیاں والا باغ ہو سکتا ہے، یا سینٹ پیٹرس برگ میں خونی اتوار (جنوری 1905)، یا پیرس میں 13 وینڈیمیر (اکتوبر 1795) کی طرح کا قتل عام ہو سکتا ہے۔‘‘

کسانوں کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہوئے کاٹجو نے وزیر اعظم سے زرعی قوانین کو واپس لینے کی گزارش کی ہے اور خط میں لکھا ہے کہ ’’پی ایم مودی کو تینوں قوانین کو رد کر کے اپنی غلطی کی اصلاح کرنی چاہیے۔ ہر انسان غلط کر سکتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح سے آپ کو تعریف ملے گی۔ اس سے آپ کی شبیہ اور بھی اچھی ہو جائے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next