طیارہ بردار بحری جہاز وکرانت کے دوسرے مرحلے کی سمندری آزمائش شروع

آئی این ایس وکرانت کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ منصوبے پورے ہوتے رہے تو اس سے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی میں بحریہ کو سونپے جانے اور اگست میں کمیشن کیے جانے کا امکان ہے۔

آئی این ایس وکرانت، تصویر یو این آئی
آئی این ایس وکرانت، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دیسی ساختہ طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کے دوسرے مرحلے کی سمندری آزمائشیں آج سے شروع ہو گئیں۔ وکرانت ملک کا پہلا مقامی طیارہ بردار بحری جہاز ہے اور اس کے پہلے مرحلے کی سمندری آزمائش اس سال اگست میں کی گئی تھی، جو مکمل طور پر کامیاب رہی تھی۔ تقریباً پانچ دن تک جاری رہنے والے یہ ٹرائل ہیلی کاپٹر آپریشن کے ساتھ کیے گئے۔

اگر دوسرے مرحلے کی سمندری آزمائشیں بھی کامیاب رہتی ہے، تو وکرانت کو تیسرے مرحلے کی آزمائشوں کے لیے آئندہ دسمبر میں سمندر میں اتارے جانے کا منصوبہ ہے۔ دوسرے مرحلے کی آزمائش کے دوران طیارہ بردار جہاز سے جنگی طیاروں کا آپریشن کئے جانے کا امکان ہے۔ آئی این ایس وکرانت کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ منصوبے پورے ہوتے رہے تو اس سے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی میں بحریہ کو سونپے جانے اور اگست میں کمیشن کیے جانے کا امکان ہے۔


آئی این ایس وکرانت کا ڈیزائن نیوی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے تیار کیا ہے اور کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ نے بنایا ہے۔ وکرانت کی لمبائی تقریباً 262 میٹر اور چوڑائی تقریباً 60 میٹر اور اس کی اونچائی 59 میٹر ہے۔ آئی این ایس وکرانت میں ایک وقت میں 1500 سے زیادہ لوگوں کے رہنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس طیارہ بردار جہاز میں خواتین افسران کے لیے الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔

ملک میں ہی طیارہ بردار بحری جہاز بنانے کے بعد ہندوستان یہ کامیابی حاصل کرنے والے دنیا کے 7 ممالک کے کلب میں شامل ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی اور چین نے ہی یہ مہارت حاصل کی تھی۔ اس سے قبل دونوں طیارہ بردار جہاز ہندوستان نے برطانیہ اور روس سے خریدے تھے۔ وکرانت کا نام برطانیہ سے 1961 میں برطانیہ سے خریدے گئے طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے پرانا ہونے پر بحری بیڑے سے باہرکر دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔